معافی نامہ!(دوسری قسط)
01 اپریل 2021 2021-04-01

گزشتہ سے پیوستہ!

میںنے شب برات پر اپنے ناراض دوستوں اور عزیزوںسے معافی مانگنے کےلئے اُنہیںروایتی سا کوئی مسیج فارورڈ نہیں کیا، اِس موقع پر بے شمار روایتی یا فیشنی سے مسیجز ہمیں ہمارے موبائل فون پر موصول ہوتے ہیں جنہیں ہم آگے فارورڈ کرکے گونگلوﺅں سے مٹی جھاڑ دیتے ہیں، میں نے اِس ضمن میں خود ایک مسیج تیار کیا، میں نے اپنے ناراض دوستوں اورعزیزوں کی خدمت میں عرض کیا ” میں جانتا ہوں آپ مجھ سے ناراض ہیں، میری غلطی تھی، میری کچھ تحریروں سے یاکسی اوروجہ سے آپ کی دل آزاری ہوئی، یہ انتہائی برکتوں والا شعبان معظم کا مہینہ ہے، کورونا کی صورت میں ہم باقاعدہ طورپر موت کے منہ کے قریب ہیں، آپ مجھے میرے لیے معاف نہ کریں، آپ مجھے اللہ اور رسول اللہ کے لیے معاف فرما دیں، جب کوئی انسان دنیا سے چلے جاتا ہے اچھے دل والے ناراض لوگ فوراً اُسے معاف کردیتے ہیں، آپ ایک نئی روایت ڈالیں، آپ مجھے میری زندگی میں معاف کردیں، اللہ آپ کو اِس کا اجرعظیم عطا فرمائے گا (ان شاءاللہ) ۔ آپ جب اجازت دیں گے میں پھول لے کر آپ کے قدموں میں آکر بیٹھ جاﺅں گا، .... دوچاردوست ایسے بھی تھے جنہیں راضی کرنے کے لیے میں نے اِس سے بھی زیادہ عاجزانہ الفاظ پر مشتمل مسیج بھیجا۔ ملک کے ممتاز کالم نویس عطا الحق قاسمی کے خلاف میں نے زندگی میں بہت کچھ لکھا، اُنہیں تو اِس سے کوئی فرق نہیں پڑا، میرے ضمیر نے مجھے اچانک ملامت کرنا شروع کردیا، میں نے سوچا اتنا اچھا اُن سے تعلق رہا، اکٹھے اُٹھے بیٹھے، کھایا پیا، سفر کیا، کچھ تو اِس کا مجھے لحاظ رکھنا چاہیے تھا، میں اتنے عرصے تک ”چولیں“ کیوں مارتا رہا ؟ اِس سے بھی زیادہ میراضمیر اِس بات پر مجھے ملامت کررہا تھا میری کسی ”چول“ کا اُنہوں نے کبھی تحریری یا زبانی طورپر جواب نہیں دیا، ایک بار شاید اپنے کسی کالم میں میرے خلاف میرا نام لیے بغیر ایک آدھ جملہ اُنہوں نے لکھ دیا تھا، اب اِس پر مجھے ایک واقعہ یاد آرہا ہے، جس روز قاسمی صاحب کا یہ کالم چھپا، صُبح صُبح ایک دوست کا فون آگیا، کہنے لگا، ”تم نے آج عطا الحق قاسمی کا کالم پڑھا ہے؟“۔(میں نے یہ کالم پڑھ لیا ہوا تھا) پر میں نے اُس سے کہا ”نہیں میں نے نہیں پڑھا، کیا لکھ دیا اُنہوں نے ؟“....وہ بولا ”اُنہوں نے تمہاری ماں بہن ایک کردی ہے، تمہیں کہیں منہ دکھانے کے قابل نہیں چھوڑا“.... اُس نے مجھے خوب بھڑکایا۔ مجھے بھڑکانے میں کچھ ایسی باتیں پلے سے ڈال دیں جو قاسمی صاحب نے نہیں لکھی تھیں، .... میں نے اُس دوست سے پوچھا ”تم کب سے عطا الحق قاسمی کو پڑھ رہے ہو؟“۔ کہنے لگا ”بیس برسوں سے تو ضرور پڑھ رہا ہوں“....میں نے عرض کیا ”اِن بیس برسوں میں اُنہوں نے کم ازکم بیس سوبار تو ضرور میرے حق میں لکھا ہے، کبھی تمہارا فون نہیں آیا، آج ایک چھوٹا سا جُملہ وہ بھی میرا نام لیے بغیر اُنہوں نے لکھ دیا اور فوراً ہی تمہارا فون آگیا ہے، یہ کس فطرت کا مظاہرہ کیا تم نے؟“....میرے اِس کڑوے سچ پر میرا وہ دوست بھی آج تک مجھ سے ناراض ہے، میں اُس کا نمبر بھی تلاش کرنے کی کوشش کررہا ہوں ایک ”معافی نامہ“ اُس کی خدمت میں بھی بھیج سکوں، یا خود اُس کی خدمت میں حاضر ہوکر اُسے منالُوں،.... دوروز پہلے میں نے قاسمی صاحب کا موبائل نمبر اپنے عزیز چھوٹے بھائی فرخ شہباز وڑائچ سے لے کر اُنہیں اِس خیال بلکہ اِس یقین سے معافی کا مسیج کیا کہ جتنا تحریری وزبانی طورپر میں نے اُنہیں ہرٹ کیا ہوا ہے وہ میرے مسیج کا جواب نہیں دیں گے، میں نے سوچا ایسی صورت میں، میں خودچل کر اُن کے پاس جاﺅں گا، اُنہیں راضی کرنے کی ہرممکن کوشش کروں گا، .... میں یہ کہنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتا بڑے باپ کے بیٹے نے انتہائی بڑے پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسیج پڑھتے ہی جوابی مسیج بھیجا ”میں تمہیں گلے سے لگانے کے لیے بے چین ہوں“....اُن کا یہ مسیج پڑھ کر میری آنکھوں میں آنسو آگئے جو خوشی سے زیادہ ندامت کے تھے، اگلے ہی لمحے اُن کا دوسرا مسیج آگیا، اُنہوں نے حکم دیا پیر کو میں اُن کے دفتر آﺅں، دوبجے دوپہرکا وقت مقرر ہوا، میں مقررہ وقت پر پھول لے کر اُن کی خدمت میں حاضر ہوا، اُن کے قدموں کو ہاتھ لگائے، اُنہوں نے اُٹھنے کی کوشش کی، گھٹنوں میں شدید درد کی وجہ سے اُن سے اُٹھا نہیں جارہا تھا، میں نے ہاتھ جوڑکر منت کی وہ بیٹھے رہیں، مگر اُنہوں نے اپنے ایک بہت ہی مخلص دوست ابرار احمد اور اپنے خدمت گزار سے کہا، مجھے پکڑ کر اُٹھاﺅ۔ بڑی تکلیف سے وہ کھڑے ہوئے میرے سرپر پیار سے ہاتھ رکھا، اور مجھے گلے سے لگالیا،میرا روزہ تھا، اُنہیں نہیں معلوم تھا، اُنہوں نے لنچ کا اہتمام کررکھا تھا، خان بابے کے ریسٹورنٹ سے اعلیٰ کھانے منگوارکھے تھے، اُن کی خوشی دیدنی تھی، میری عقیدت بھی جوش ماررہی تھی، یوں محسوس ہورہا تھا، جیسے وہ یہ محسوس کررہے ہیں کہ اُن سے رُوٹھاہوا، یا اُن کا کوئی ”گمشدہ بچہ “ اچانک گھرواپس آگیا ہو، میرے دِل کا بوجھ بھی ہلکا ہوگیا، تین گھنٹے محفل جمی، میں کتنے ہی برسوں بعد اُن سے مِل رہا تھا، رتی بھر اُن کی شخصیت میں فرق نہیں آیا، سوائے اِس کے اب اُن کی یادداشت تھوڑی کمزور ہوگئی ہے، ہم اِس موقع پر پرانے دوستوں کو یاد کرتے رہے، اُنہوں نے مجھ سے ڈاکٹر اجمل نیازی کا حال پوچھا، اُن دونوں میں بھی بہت برسوں سے ناراضگی چل رہی تھی، میں نے اُن سے کہا ”اب کسی روز میں نے آپ کو اجمل نیازی صاحب کی عیادت کے لیے بھی لے کرجانا ہے“۔.... مجھے یہ سُن کر خوشی ہوئی، اُنہوں نے بتایا وہ کچھ روز پہلے اُن کی عیادت کرآئے تھے، پر اُنہوں نے فرمایا اب ہم اکٹھے جائیں گے، پھر دلدار پرویز بھٹی مرحوم کاذکر چھڑ گیا، کہنے لگے”یہ کورونا تھوڑا تھم جائے اُن کی قبر پر حاضری بھی دیں گے“....اِس موقع پر موجود اُن کے انتہائی مخلص دوست ابرار احمد نے خواہش ظاہر کی کہ خوشی کے اس موقع پر اُنہوں نے قاسمی صاحب کے ساتھ میری کچھ تصویریں بنانی ہیں، اِس مقصد کے لیے قاسمی صاحب ایک بار پھر اُٹھ کر کھڑے ہوگئے، (جاری ہے)!!


ای پیپر