عذاب … آزمائش … یا سزا؟
01 اپریل 2020 2020-04-01

آج کے مکالمے کا مخاطب وہ لوگ نہیں ‘جو اِس کائنات کو ایک حادثہ سمجھتے ہیں، جن کے نزدیک زندگی ایک حادثے کا نتیجہ ہے‘ اُن کیلئے اِس زندگی میں رُونما ہونے والا ہر واقعہ بھی ایک حادثے سے زیادہ کچھ اہمیت نہیں رکھتا، اِس لئے ان کے نزدیک کسی واقعے میں کوئی فہم و دانش کا نکتہ تلاش کرنا بھی ایک کارِ عبث ہے۔ صرف سبب اور نتیجے کی دنیا میں محو ِ سفر شعور کسی واقعے میں مشیت الٰہیہ تلاش کرنے کے ذوق سے ناآشنا ہوتا ہے۔

انفرادی یا اجتماعی زندگی میں جب کوئی ناگہانی درپیش ہو تو ایک خدا آشنا شعور سبب اور نتیجے کا معمہ حل کرنے کے ساتھ ساتھ اِس نکتے کی طرف بھی متوجہ ہوتا ہے کہ آیا یہ خدا کی طرف سے عذاب کی کوئی صورت ہے ، یا کوئی آزمائش ہے یا پھر یہ کہ ایک سزا ہے۔ ہر وہ شخص جو الہامی ہدایت پر یقین رکھتا ہے‘ وہ اِس مادّی شعور کے ساتھ ساتھ ایک اور شعور سے بھی متصف ہو تا ہے ‘جسے روحانی شعور یا ایمانی شعور کہتے ہیں۔ شومئی قسمت ‘اِس شعور سے عاری لوگ اپنے زعم ِ عقل میں کسی بھی اور درجۂ شعور کا انکار کر دیتے ہیں۔ بات یہاں تک ہی محدود رہتی تو کچھ بات نہ تھی ‘لیکن اِن میں سے اکثر لوگ روحانی شعور رکھنے والوں کاٹھٹھہ لگانے کا قلمی مشغلہ بھی جاری رکھتے ہیں…کم علم ملاؤں کی تفہیم ِ دین کو عین دین سمجھ کر جب وہ اُن کا مضحکہ اڑاتے ہیں تو درحقیقت نشانہ دین ہی ہوتا ہے… لاؤ کوئی ثبوت، لاؤ کوئی دلیل…اور اس دلیل کے الاؤ میں اُِن کے اپنے ہاتھ بھی جھلس جاتے ہیں…کچھ ہی عرصے بعد اپنے ہاتھوں کی کمائی بے ذائقہ ہونے لگتی ہے ، رفتہ رفتہ ان کامادی شعور ایک ٹھہرئے ہوئے پانی کی طرح بساند دینے لگتا ہے۔ اب روحانی شعور کوئی سائینس کا کلیہ تو ہے نہیں ‘ جسے نیوٹن کے کسی قانونِ تحرک و جمود کی روشنی میں ثابت کر دیا جائے…ـ’’ جب اِن سے کہا جاتا ہے کہ ایمان لاؤ تو وہ کہتے ہیں کیا ہم ایسے ایمان لائیں جیسے بیوقوف لوگ ایمان لے آتے ہیں؟ آگاہ رہو! یہی لوگ بیوقوف ہیں ‘لیکن انہیں ( اپنے بیوقوف ہونے ) کا شعور نہیںـ‘‘ ۔ بالا شعور ‘پست شعور کو دیکھ لیتا ہے… پست ‘ بالا کا قد نہیں ماپ سکتا۔

بعد از تمہید ِ طولانی ، روحانی شعور رکھنے والوں کے خانۂ شعور میں گزشتہ چند دنوں سے یہ سوال پیدا ہو رہا ہے کہ یہ کرونا کی عالمی وبا ایک عذاب ہے ، آزمائش ہے یا پھرسزا کی کوئی صورت ہے۔ آئیے! ہم مل جل کر اِس سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ ناچیز خود کو جواب دینے کی مسند پر فائز نہیں سمجھتا، یہ بھی دیگر طالبعلموں کی طرح سمجھنے کی کوشش میں مصروفِ عمل ہے۔

عذابعذاب ہے ‘خواہ آسمان سے نازل ہو یا زمین کے پیٹ سے اُگ آئے، چاہے دھیرے دھیرے بڑھنے والی افتاد ہو ‘یا پھر یکلخت وارد ہونے والی کوئی ناگہانی۔ قرآنی آیت کے مفہوم کے مطابق خانہ جنگی بھی عذاب ہے، یعنی لوگوں کا گروہوں میں بٹ کر ایک دوسرے کی گردن مارنا بھی عذاب ہے۔ عذاب کی بہت سی صورتیں ہیں، اَولاد کا گستاخ ہو جانا بھی عذاب ہے، یہ دو طرفہ عذاب ہے، والدین اور اولاد دونوں کیلئے عذاب … رعیت کا باغی ہو جانا بھی عذاب ہے، راعی کا منہ پھیر لینا بھی عذاب ہے۔ غرض عافیت سے نکل آفت کی کسی وادی میں داخل ہو جانا عذاب ہی کی مختلف صورتیں ہیں۔ یہ سازشی تھیوری بھول جائیں کہ کس کی غلطی سے، کس کی تخریب کاری سے یہ افتاد عالمِ انسانیت پر آن پڑی ہے، ایٹم بم بھی انسان کا بنایا ہوا ہے، لیکن یہ عذاب بن کر ہی آسمان سے برستا ہے، وائرس انسان کا بنایا ہوا ہو یا خدا کا‘ جب تباہی مچانے پر آ جائے تو اِسے عذاب ہی کہیں گے۔ سبب اور نتیجے کی دنیا میں ہر اَمر کسی سبب کا پردہ لے کر ہی ظاہر ہوتا ہے۔ انسان جو چیزیں بناتا ہے‘ دراصل بالواسطہ وہ بھی خدا ہی کی تخلیق ہیں۔ شکاری کا کتا جو شکار کرتا ہے ‘ وہ شکاری کا شکار ہی کہلاتا ہے۔

کسی واقعے کی اجتماعی شکل کچھ بھی ہو‘ انسان کو اس کا انفرادی پہلو ہی متاثر کرتا ہے۔ یعنی ظاہر میں کسی افتاد کی شکل کچھ بھی ہو‘ اس کی باطنی صورت ہر انسان کے باطن کے حسبِ حال ہوتی ہے۔مثلاً ایک جگہ قحط آگیا، لوگ بڑی تعداد میں مر گئے، اسی جگہ ایک سخی دل نے سخاوت کا مظاہرہ کیا اور سرفراز ہوگیا۔ جنگیں ہلاکت خیز ہوتی ہیں، انہی جنگوں میں زندگی بچانے والا ہیرو سامنے آ جاتا ہے۔ آسمان سے برسنے والی بارش اُس زمین کو زرخیر کر دیتی ہے‘ جسے دہقان نے نرم کیا ہو ‘ جس میں بیج بویا ہو، جبکہ شور زدہ زمین کو وہی بارش دلدل میں بدل دیتی ہے۔بارش کا جو قطرہ سانپ کے منہ میں زہر بن جاتا ہے‘ وہی سینہ ٔ صد ف میں گوہر ِ تابدار بنتاہے۔ اجتماعی عذاب انفرادی طور پر آزمائش کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ آزمائش کیا ہے؟ آزمائش خدا کا اپنے بندوں کو انعام

عطا کرنے کے ایک جواز کا نام ہے۔ وہ شخص جو اِس امر پر یقین رکھتا ہے کہ ’’ پاک ہے وہ ذات جس کے قبضۂ قدرت میں زمین و آسمان کی بادشاہت ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے ، اُسی نے موت اور زندگی پیدا کی ‘تاکہ وہ آزمائے کہ کون عمل صالح کرتا ہے، اور وہ عزت والا اور بخشش والا ہے‘‘… وہ مالک کائنات کے اِس اَمر پر بھی یقین رکھتا ہے کہ ’’ ہم تمہیں آزمائیں گے ‘خوف اور بھوک سے، جان ، مال اور ثمرات کے نقصان سے، اور اس میں اچھی خبر ہے ‘صابرین کیلئے ‘جو یہ کہتے ہیں کہ ہم اللہ ہی کی طرف سے ہیں اور اللہ ہی طرف ہمیں لوٹ کر جانا ہے" آج کی عالمی وبا بیک وقت خوف ، بھوک، جان اور مال کا نقصان اور انسانی محنت کے ثمرات کے ضائع ہونے کے سب پہلو سامنے لے کر آئی ہے۔ اس نقصان پر صبر کرنے والے فائدے میں رہیں گے۔ مال والوں کو اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے کے مواقع میسر آئیں گے ، بھوک اور خوف میں مبتلا لوگوں کو صبر کے مفہوم سے آشنائی ملے گی، اور اہلِ صبر کی یہ شان ہے کہ ’’ واللہ مع الصابرین‘‘… اور اللہ صبر کرنے والوں کی معیت میں ہے۔ جسے اللہ کی معیت مل جائے‘ اس کیلئے کوئی مشکل ‘مشکل نہیں رہتی۔ مرشدی حضرت واصف علی واصفؒ فرمایا کرتے’’ مقربین مقامِ صبر کو مقام شکر بنا دیتے ہیں‘‘ اکثر سوال ہوتا ہے ‘ کیسے؟ حق کے مقرب جب کسی ناروا واقعے پر صبر کرتے ہیں تو انہیں اس واقعے میںکارفرما مشیت الٰہیہ سے آشنا کر دیا جاتا ہے اور جب وہ مشیت آشنا ہوجاتے ہیں تو بے اختیار پکار اٹھتے ہیں ’’ ربنا ماخلقت ھٰذا باطلا‘‘ …اے ہمارے رب تو نے کوئی چیز عبث پیدا نہیں کی۔

اب آزمائش او سزاور میں فرق کیسے کریں؟ اس پر بھی مرشد نے خوب رہنمائی فرمائی، حضرت واصف علی واصفؒ نے بتلایا کہ اگر کوئی مشکل تمہیں اللہ کے قریب کر رہی ہے تو یہ آزمائش ہے، اگر اللہ سے دور کر رہی ہے، یعنی اللہ کی رحمت سے مایوس کر رہی ہے تو پھر یہ ایک سزا ہے۔ گویا آزمائش سرفراز ہونے کا ایک موقع ہے، اسے اپنی غفلت زدہ زندگی سے نکلنے کا ایک موقع opportunity کے طور پر لینا چاہیے۔

عین ممکن ہے‘ ہماری قوم غفلت سے نکل آئے، بے حسی اور خود غرضی کو خیر باد کہہ دے ، سخاوت اور بھائی چارے کی ایک عالمی مثال قائم کر دے، ایک فلاحی اسلامی مملکت جس میں اَمیر اَز خود غریب کا خیال رکھتا ہے ، بغیر کسی حکومتی جبر کے… ایسی ہی ریاست ِ مدینہ کی ایک مثال ہم دنیا کے سامنے پیش کر سکیں… عین ممکن ہے۔ دین ِ اِسلام کی حقانیت کو عالمی سطح پر پیش کرنے کا یہ ایک بھرپور موقع ہے ‘لیکن یہ موقع عمل کا مظاہرہ کرنے کا ہے ‘ زبانی کلامی بھاشن دینے کا نہیں۔ اس موقع پر عین ممکن ہے ‘چین بحیثیت قوم کلمہ پڑھ لے۔ ہم نے اپنے بزرگوں سے سنا ہے کہ چینی بحیثیتِ قوم اسلام میں داخل ہوں گے۔ دنیانے اس موقع پر دین ِ فطرت کے فطری اصولوں کی روشنی تو دیکھ ہی لی ہے۔ صفائی ستھرائی سے لے کر وبا کی روک تھام میں قرنطینہ کے اصول تک ‘سب نے تسلیم کیا ہے کہ یہی اصول کارگر ہیں۔

یوں لگتا ہے ‘ قدرت اپنا سسٹم ری سیٹ کر رہی ہے، آنے والے شب و روز پہلے کی طرح نہ ہوں گے، معیشت سے لے معاشرت تک ‘ سب کچھ بدلنے کو ہے، بھٹکنے والے سنبھلنے لگیں گے، سرنگوں سرفراز ہوں گے، بلند وبالا اپنے ہی وزن سے دھڑام سے نیچے آ گریں گے۔ انسان کی مجموعی سوچ بھی مقدار سے نکل کر معیار کی دنیا میں داخل ہو گی، مادی شعور پس ماندگی کی علامت قرار پائے گا، اور دینی و روحانی شعور کا شہرہ ہوگا، عالمی سطح پر ہمارے فکری سانچے تبدیل ہونے کو ہیں۔

اس گفتگو کو سمیٹتے ہوئے ‘ہم اِس نتیجے تک پہنچتے ہیں کہ اجتماعی عذاب کو انفرادی آزمائش بنایا جا سکتا ہے اور آزمائش خود احتسابی کا ایک موقع ہے، اس موقع پر صبر سے کام لے کرہم ظاہری اور باطنی دونوں طریق پر سرفراز ہو سکتے ہیں۔ جزا سزا کا دن طے ہے … روزِ جزا سے پہلے کسی مشکل وقت کو کسی کیلئے سزا نہ سمجھیں۔


ای پیپر