سرخیاں ان کی…؟
01 اپریل 2020 2020-04-01

٭… امریکہ اور یورپ میں کرونا بے قابو…؟

٭ سوال یہ نہیں کہ اکیسویں صدی کے ایبولا وائرس، سارس وائرس، سوائن فلو وائرس، برڈ فلو وائرس یا کرونا قاتل وائرس کیا ہیں، ان کی دریافت نئی ہے مگر تاریخ نسل انسانی جتنی پرانی ہے۔ یہ بھی الگ بحث ہے کہ یہ "VIRUSES" وقت کے ساتھ ساتھ اپنی ’’ہئیت‘‘ بدلتے ہیں اور ان کے RNA اور DNA کی چیر پھاڑ سے کس کے کیا مفاد وابستہ ہیں! سوال یہ بھی نہیں ہے کہ ہمارے جیسے مقروض، غریب اور محکوم ملکوں میں ’’صحت عامہ‘‘ کی بنیادی سہولتیں عوام کو میسر ہوتی ہیں جس طرح ہونی چاہئیں؟ سوال تو یہ ہے کہ روٹی روزی تقسیم کرنے والے ’’معاشی خدا‘‘ جہاں ’’طبی شعبے‘‘ نت نئی ایجادات کا جادو سر چڑھ کر بولتا ہے۔ آج محض ایک وائرس سے لڑنے کی اہلیت بھی نہیں رکھتے ہیں اور کرونا کا قہر یوں نازل ہوا ہے کہ امیر و غریب ہی نہیں بلکہ دنیا کی سات ارب آبادی کونہ صرف گھروں کے اندر قید کی سزا سنا دی گئی ہے بلکہ کھربوں ڈالرز کی معیشت کا نقصان کسی نئے عالمی معاشی بحران کا اشارہ بھی دے رہا ہے۔ اس سے پہلے کہ عالمی معیشت زمین بوس ہو جائے اور سپر پاور سمیت مغربی حکومتوں کے طبی ایمرجنسی سے نمٹنے کے لئے جدید بنیادی سہولتوں کا ڈھانچہ بھی دھرے کا دھرا رہ جائے تو ان کے نظام صحت کا پول بھی کھل جائے اور غریب، مقروض اور خیراتی ممالک کی طرح جہاں اندرونی انتشار، سیاسی خلفشار، بددیانت اور بدنیت حکمران اور لڑو لڑائو اور حکومت چلائو کے نظریے کے باعث طبی سیکٹر نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے بلکہ جہاں قوموں کی زندگی اللہ کے سہارے چلتی ہے اور ہر کام اللہ کے سپرد کر دیا جاتاہے اور حقیقت سے یوں آنکھیں چرا لی جاتی ہیں جیسے بلی کبوتر سے آنکھیں چرا لیتی ہے حالانکہ توکل سے پہلے تدبیر ضروری ہے مگر ہم کاغذ کی کشتیاں لے کر سمندر کی سیر کو نکل پڑتے ہیں۔ یہ بھی نہیں سمجھتے کہ اگلے مورچوں پر لڑنے والے فوجی کے لئے بندوق ضروری ہوتی ہے۔ اسی طرح ہمارے ڈاکٹرز بے تیغ قاتل کرونا کے خلاف لڑ رہے ہیں جو ظلم کے مترادف ہے۔ ویسے تو میں پچھلے کئی روز سے حکومت کے معزز اراکین، وزراء سے درخواست کر رہا ہوں کہ ان کی بے سروسامانی ختم کی جائے۔ ان کے لئے حفاظتی اقدام کئے جائیں یہ معصوم جو قوم کے دکھی افراد کے لئے اپنی زندگیاں دائو پر لگا رہے ہیں ان یتیموں کے سر پر ہاتھ رکھا جائے انہیں جلد سے جلد حفاظتی کٹیں اور دیگر

سازوسامان مہیا کیا جائے۔ کیونکہ یہ سب سے سنجیدہ معاملہ ہے کہ اس وقت تمام کام چھوڑ کر ان سپاہیوں کو پہلے اسلحہ فراہم کیا جائے پھر انہیں اس جنگ میںجھونکا جائے۔ کیونکہ بالآخر کرونا کے خلاف جنگ انہی مسیحائوں نے جیتنی ہے۔ اسی طرح حکومت پر بے جا تنقید کرنے والے بھی احتیاط کریں کہ ہر وقت تنقیدکا نہیں، نہ سیاست کا ہے۔ اس کے لئے زندہ رہے تو عمر پڑی ہے۔ فی الحال حکومتی ہدایات پر عمل کیا جائے اور نظم و ضبط کے ساتھ قوم حکومت کے ساتھ کھڑی ہو تاکہ کرونا کے خلاف بھرپور جنگ لڑی جائے اور ہم جلد سے جلد سرخرو ہوں۔ معذرت کہ بات دور نکل گئی، میں کہہ رہا تھا کہ آج امریکہ اور یورپ میں بھی کرونا بے قابو ہو رہا ہے۔ لہٰذا سوچنے کا مقام ہے کہ یہ سب ہمارے عمل کا ردعمل تو نہیں اور کہیں 80 لاکھ قید کشمیریوں کی آہوں کا نتیجہ تو نہیں…؟ کیونکہ آج نہ صرف امریکہ کو 203 ٹریلین ڈالر کے پیکیج بلکہ کینیڈا کو دو سو ارب ڈالر کے پیکیج کا فی الحال اعلان کرنا پڑا ہے۔ لہٰذا سوال یہ ہے کہ کیا اس سے دنیا ایک نئی کساد بازاری میں نہیں چلی جائے گی؟ کیا یہ گھاٹے کا سودا نہیں۔!ایسا گھاٹے کا سودا جس کی نشاندہی یہ ہے کہ ایک اندازے کے مطابق امریکہ میں دس لاکھ وینٹی لیٹرز کی جلد ضرورت ہو گی بلکہ ان کی موجودگی کے باوجود فیصلہ مشکل ہو گا کہ کس مریض کو زندہ رکھنا ہے اور کس کو زندگی سے فارغ کرنا ہے۔ اسی طرح برطانیہ کی ساڑھے چھ کروڑ کے لگ بھگ آبادی کے لئے صرف پانچ سے دس ہزار کے درمیان وینٹی لیٹرز ہیں جبکہ مہلک ہتھیاروں کی خریدوفروخت پر بالخصوص جوہری سسٹم پر 205 ارب پائونڈ خرچ کیے جا چکے ہیں۔ حالانکہ زندگی موت کی جنگ لڑنے والے انسان کے لئے ایک وینٹی لیٹر کی کل قیمت جہاں تقریباً پانچ ہزار پائونڈ ہے۔ اسی طرح اٹلی میں مضبوط صحت کا نظام ہے مگر اس کی حالت یہ نکلی کہ وہاں اس قدر لوگ کرونا کے ہاتھوں قتل ہو گئے کیونکہ ان کے لئے سانس لینے میں مددگار ’’وینٹی لیٹر‘‘ ناکافی تھے۔ اسی طرح یورپ کی حالت ہے کیونکہ وہاں کے ایمرجنسی انتظامات سے بھی قاتل کرونا نے پردہ اٹھا دیا ہے اور دنیا کو بتا دیا ہے کہ یہاں بھی انسانی صحت کی بجائے مہلک ہتھیاروں کی خریدوفروخت پر قوم کے ٹیکسوں کا پیسہ ضائع کیا گیا ہے اور آج اس کا خمیازہ نہ صرف غریب ممالک بلکہ امریکہ، یورپ اور برطانیہ کے عوام بھی بھگت رہے ہیں لہٰذا کرونا کی وباء کے خطرے سے سماجی اقدار ضرور بدلیں بلکہ چاہیں تو انسانی شکل اور اور جسم بھی بدل دیں ویسے بھی آج نہیں تو کل ان کی جگہ ’’روبوٹس‘‘ پسندیدہ کہلائیں گے۔ مگر دنیا کا ایک ایک شخص تنہائی کی قید میں بیٹھے ضرور سوچے کہ کالے اور گورے کی دوستی کا انجام کیا ہے؟ کالے صحرائوں کو پار کر کے خزانوں کی تلاش میں ہیں اور گورے خزانوں سے مہلک ہتھیار خرید کر محکوموں کی تلاش میں ہیں۔ یہ سفر اور اس کا انجام کیا ہو گا؟ مگر اتنا معلوم ہے کہ دونوں ایک دوسرے کو دھوکہ دے رہے ہیں جبکہ دنیا بھر کے ہسپتالوں میں آج ہزاروں لوگ آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے سانس لینے کے لئے اور سانس لینے کی ایک مشین وینٹی لیٹر کے لئے ترس رہے ہیں۔ زندہ باد، دنیا کے منصفو زندہ باد!

٭… اموات دو لاکھ تک روک لیں تو بڑی کامیابی ہو گی، ٹرمپ

٭ سنا ہے کہ شہنشاہ نیرو کے زمانے میں سلطنت روم میں سخت قحط آن پڑا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ نیرو کا 13 سالہ دورِ حکومت اس کے خاندان کے قتل، بے جا اسراف، شہر روم کی آگ ویلز میں نہ صرف مشہور ہے بلکہ بدنام تاریخ بھی ہے۔ بہرحال خالق کائنات اسی لئے غوروفکر کرنے کو پسند فرماتا ہے کہ اس سے نہ صرف سچائی اور حقائق کی طرف کم علم پلٹتا ہے بلکہ حادثات سے سیکھتے ہوئے ان کی زندگی کی راہ بھی بدلتی ہے۔ کل تک کرونا کا مذاق اڑانے والا امریکی صدر آج کہہ رہا ہے کہ کرونا کے باعث ملک میں دو لاکھ تک امریکی ہلاک ہونے کاخطرہ ہے بلکہ یہاں تک بھی وہ اسے اپنی کامیابی قرار دے رہا ہے۔ یہ وہ امریکہ ہے جس کا ایک شہری دنیا میں کہیں ہلاک ہو جائے تو اس کے بدلے کم از کم سو گنا نقصان تو ضرور پہنچایا جاتا ہے۔ اب وہ اس قدر بے بس ہیں کہ وہ فرماتے ہیں کہ کرونا وائرس کے باعث خودکشیاں، ڈپریشن اور کساد بازاری بھی ہو گی قبل ازیں حکومتی ترجمان ڈاکٹر انتھونی فوکی جن کی سچائی اور عظمت کا میں مداح ہوں۔ وہ ایک امریکہ کے بہت بڑے معتبر اور معروف مثالی شخصیت ہیں۔ اس لئے میں جناب ٹرمپ کی بات پر حیران نہیں ہوا۔ مگر مسٹر فوکی نے میری نیندیں اڑا دی ہیں یہ کہہ کر کہ دو لاکھ تک امریکی ہلاک ہو سکتے ہیں۔ میری دعا ہے کہ اللہ اپنا خاص کرم فرمائے اور اس قدر امریکی جانی نقصان نہ ہو اگرچہ عالمگیر جنگوں سے بنی نوع انسان نے بہت سے سبق سیکھے ہیں، میری خواہش ہے کہ امریکہ بھی اس عالمگیر وباء سے سبق خاص سیکھے اور جس طرح سے غیرسنجیدگی میں واشنگٹن، نیویارک ، کیلیفورنیا،میامی کے ہوائی اڈوں پر جہاز بے پرواہ اترتے رہے اور کرونا پھیلاتے رہے اب احتیاط کریں اور اپنے تمام تر وسائل بروئے کار لا کر کنٹرول کریں تاکہ کم سے کم جانی و مالی نقصان ہو وگرنہ مرنے اور جینے میں فرق کرنا مشکل ہو گا!۔


ای پیپر