گھاس پر مری ہوئی آسکروائلڈ کی بلبل اور عوام
01 اپریل 2020 2020-04-01

انگریزی کے ایک بڑے ادیب ’’آسکر وائلڈ‘‘ اپنی مشہور کہانی The Nightingale & The Rose میں لکھتے ہیں کہ ’’نوجوان طالبعلم گھر کے لان میں بے حد اداس بیٹھا تھا۔ وہ سوچ رہا تھا کہ اگر اسے کل صبح تک سرخ گلاب نہ ملا تو وہ پروفیسر کی بیٹی سے دوستی نہیں کرسکے گا۔ لڑکے نے اردگرد دیکھا اور سرد آہ بھری کہ میرے گھر کے لان میں کہیں بھی سرخ گلاب نہیں ہے۔ وہ مایوسی اور جذبات کی شدت سے اوندھے منہ گھاس پر لیٹ گیا۔ اس کی خوبصورت آنکھیں آنسوئوں سے بھیگ گئیں اور پورا چہرہ تربتر ہوگیا۔ وہ بڑبڑایا کہ میں فلسفے کی کتابوں کو پڑھتا ہوں، عقل و دانش کے تمام راز جانتا ہوں لیکن دیکھو اس محبت نے مجھے کتنا بے بس کردیا ہے۔ لان کے نُکر میں بوڑھے برگد کے درخت پر ایک بلبل نے پتوں کی اوٹ سے لڑکے کی کیفیت جانی اور تشویش سے اردگرد دیکھا کہ کہیں کوئی سرخ گلاب مل جائے۔ لڑکا اپنی محبت سے دور ہونے کا سوچ سوچ کر نڈھال ہوا جارہا تھا۔ اس کی سسکیاں اردگرد اُگے پودے بھی محسوس کررہے تھے۔ بلبل نے سوچا کہ میں ہررات چاند اور ستاروں کو سچی محبت کرنے والوں کے جو گیت سناتی ہوں ان کرداروں سے آج تک نہیں ملی لیکن اس لڑکے کی حالت دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ یہی وہ سچا عاشق ہے اور برسوں سے میں اسی کے گیت گارہی ہوں۔ لہٰذا مجھے دو محبت کرنے والوں کی مدد کرنی چاہئے۔ اس نے اپنے پرپھیلائے اور اڑنے لگی۔ لان کے درمیان میں ایک گلاب کا پودا اگا ہوا تھا۔ بلبل اس کی ایک شاخ پر بیٹھی اور پودے سے کہا کہ مجھے ایک سرخ گلاب چاہئے۔ اس کے عوض میں تمہیں اپنے میٹھے گیت سنائوں گی۔ گلاب کے پودے نے سر اٹھایا اور کہا کہ میرے گلاب سمندروں کی جھاگ کی ماننداور تازہ پڑی ہوئی برف کی مانند سفید ہیں مگر سرخ نہیں۔ تم لان کے کنارے گھڑیال کے قریب اگے ہوئے گلاب کے پودے کے پاس جائو، شاید وہ تمہاری مدد کرسکے۔ بلبل نے اڑان بھری اور اس گلاب کے پودے پر آکر بیٹھ گئی۔ بلبل نے اپنی میٹھی آواز میں کہا کہ اے پودے مجھے ایک سرخ گلاب چاہئے۔ پودے نے سر اوپر اٹھایا اور کہا کہ میرے گلاب جلپری کے بالوں کی مانند اور صبح پھوٹتی ہوئی سورج کی کرنوں کی مانند پیلے ہیں مگر سرخ نہیں۔ ہاں البتہ لڑکے کے کمرے کی کھڑکی کے نیچے اگا ہوا پودا سرخ گلاب کا ہے۔ وہ تمہاری ضرور مدد کرے گا۔ بلبل سرخ گلاب کے پودے کے پاس آئی اور اپنی بات دہرائی۔ اس پودے نے ٹھنڈی آہ بھری اور کہا کہ میرے گلاب سرخ ہیں لیکن سخت سردی نے میری رگوں کا خون جما دیا ہے۔ برفباری نے میری کونپلیں مار

دی ہیں۔ اس لیے افسوس اس سال میرے ہاں کوئی سرخ گلاب پیدا نہیں ہوگا۔ بلبل نے بہت منت سماجت کی، تلملائی اور کہا کہ مجھے کسی طریقے سے بھی صرف ایک سرخ گلاب دے دو۔ میں سچی محبت کرنے والوں کو افسردہ نہیں دیکھ سکتی۔ تب گلاب کے پودے نے کہا ایک ایسا طریقہ ہے کہ جسے بتاتے ہوئے مجھے خوف آتا ہے۔ بلبل نے کہا کہ میں ہرکام کرنے کو تیار ہوں، ایک سرخ گلاب کی خاطر۔ گلاب کے پودے نے کہا کہ اگر آج رات چاندنی میںتم اپنا گیت گائو اور اپنے دل کے خون کو میری رگوں میں اتار دو تو میں سرخ گلاب پیدا کرسکتا ہوں۔ بلبل نے کہا کہ ایک سرخ گلاب کے مقابلے میں زندگی بہت بڑی چیز ہے لیکن پھر سوچنے لگی کہ میں جس محبت کے گیت تمام عمر گاتی رہی ہوں وہ شاید اسی لڑکے کی سچی محبت ہے۔ ویسے بھی ایک پرندے کا دل ایک انسان کے دل کے آگے کیا حیثیت رکھتا ہے۔ لہٰذا وہ اڑی اور روتے ہوئے لڑکے کے اوپر سے خوشخبری سناتے ہوئے گزر گئی۔ لڑکے نے بلبل کی آواز سنی مگر سمجھی نہیں۔ اس نے سوچا یہ پرندے محض کائنات کی خوبصورتی ہیں۔ انہیں محبت کے جذبات کا کیا اندازہ؟ لیکن بوڑھے برگد نے تمام معاملہ سمجھ لیا۔ اس نے بلبل سے کہا میں تمہارے بعد بہت تنہا رہ جائوں گا، جاتے ہوئے مجھے ایک گیت سنا دو۔ بلبل کے منہ سے گیت نکلا تو برگد بھی آنسو بن گیا۔ رات کو جب چاند نے چہرہ دکھایا تو بلبل نے اپنے گھونسلے پر آخری نگاہ ڈالی اور برگد کو خداحافظ کہہ کر گلاب کے پودے پر جابیٹھی۔ ا س نے پودے کے کانٹے کے ساتھ اپنا سینہ لگایا اور گانا شروع کردیا۔ سب سے پہلے اس نے محبت جیسی سچائی کا گیت گایا۔ کانٹا اس کے سینے میں پیوست ہونے لگا۔ بلبل کا خون اور زندگی گلاب کے پودے میں منتقل ہونے لگی۔ ایک چھوٹی سی کونپل نمودار ہوئی مگر اس کا رنگ پھیکا تھا۔ چاند دیکھ رہا تھا۔ گلاب کے پودے نے کہا بلبل اپنے سینے کے اندر کانٹا اورلے کر جائو۔ بلبل نے مزید زور لگایا اور نیا گیت شروع کیا کہ محبت انسانیت کی بلندی ہے۔ کانٹا اس کے سینے میں زیادہ پیوست ہوکر دل کے قریب پہنچ چکا تھا۔ چھوٹی سی کونپل بڑی ہورہی تھی۔ اس کا رنگ بھی کچھ گہرا ہورہا تھا لیکن ابھی وہ ایک مکمل سرخ گلاب نہیں بنا تھا۔ گلاب کے پودے نے چیخ کرکہا بلبل مجھے اپنے دل کا خون دو۔ تمہارے دل کے خون سے میرا گلاب ایک مکمل سرخ گلاب بنے گا۔ جلدی کرو، یہ کام دن نکلنے سے پہلے کرنا ہے۔ یہ سن کر رات کا سناٹا بھی جم گیا، چاند بھی برف بن گیا مگر بلبل نے زور لگایا۔ کانٹا اس کے دل میں پیوست ہوگیا۔ اس نے قیامت کا درد محسوس کیا، اس کے پر پھڑپھڑانے لگے، آنکھوں کی فلم بند ہونے لگی مگر اس نے آخری تان لگائی جسے سن کر چاند صبح کو بھول گیا، تاروں نے اپنی پُرنم آنکھیں چھپا لیں۔ گلاب کا پودا خوشی سے چیخا، دیکھو سرخ گلاب مکمل ہوگیا، بالکل ویسا سرخ جیسا محبوب کا رنگ، دیکھو بلبل ، بلبل نے کوئی جواب نہ دیا کیونکہ وہ لمبی گھاس پر پر پھیلائے مری پڑی تھی اور اس کے سینے میں کانٹا چبھا ہوا تھا۔جب لڑکا اپنی نیند سے بیدار ہوا تو اس نے کھڑکی کے باہر نظر ڈالی اور گلاب کے پودے پر ایک بے حد خوبصورت اور تازہ سرخ گلاب دیکھا تو خوشی سے پاگل ہوگیا۔ اس نے گلاب توڑا اور سیدھا اپنی دوست پروفیسر کی بیٹی کے پاس جاپہنچا اور کہا کہ تمہارے کہنے کے مطابق میں سرخ گلاب لے آیا ہوں۔ اب تمہاری میری دوستی پکی ہے۔ لڑکی ماتھے پر تیوری چڑھا کر بولی مجھے چیمبرلین کے بھتیجے نے اصلی موتی تحفے میں بھیجے ہیں۔ تم جانتے ہو کہ اصلی موتیوں کے آگے اس سرخ گلاب کی کیا اہمیت ہوگی؟ لڑکے کو اس جواب پر غصہ آیا اور کہا کہ تم ایک بہت نامناسب لڑکی ہو۔ پھر اس نے وہی سرخ گلاب دور پھینک دیا جو سڑک پر پڑے کوڑے میں گرا اور اس کے اوپر سے ریڑھی گزر گئی۔ لڑکی کو لڑکے کے منہ سے نکلنے والے توہین آمیز الفاظ برداشت نہ ہوئے۔ لہٰذا اس نے بھی غصے میں جواب دیا کہ میں بتائوں تمہاری حیثیت کیا ہے؟ تم چیمبرلین کے بھتیجے کے مقابلے میں اپنے جوتوں کے لیے سلور بَکل بھی نہیں خرید سکتے۔ لڑکا واپس اپنے کمرے میں آگیا اور محبت کو دنیا کی سب سے بیکار اور غیرعملی چیز قرار دے کر فلسفے اور دانش کی کتابوں میں کھو گیا‘‘۔ مذکورہ کہانی کو پڑھ کر کیا یہ محسوس نہیں ہوتا کہ پاکستان بھی بلبل اور لڑکی لڑکے کے دو کردار جیسے حصوں میں بٹا ہوا ہے۔ لڑکی لڑکا یہاں کے وہ کردار ہیں جو لیڈروں کی صورت میں ہروقت نمایاںنظر آتے ہیں، کبھی ٹاک شوز میں، کبھی جلسے جلوسوں میں، کبھی مشورے دیتے ہوئے، کبھی تنقید کرتے ہوئے، کبھی نئی امید دلاتے ہوئے اور بلبل یہاں کی عوام ہیں جو کبھی ان لیڈروں کی پکار پر سڑکوں پر آجاتے ہیں، کبھی راشن ملنے کی امید میں میلوں لمبی قطاروں میں کھڑے ہوسکتے ہیں، کبھی ہسپتالوں میں ناکافی سہولتوں کی بناء پر مرنے لگتے ہیں مگر یہ عوام پھر بھی جمہوریت کو پسند کرتے ہیں لیکن جب سرخ گلاب یعنی پارلیمنٹ مل جاتی ہے تو لیڈر آپس میں لڑنے لگتے ہیں اور سرخ گلاب کی بے قدری کرتے ہیں، یہ جانے بغیر کہ گلاب کو سرخ رنگ دیتے ہوئے کس نے اپنا خون دیا۔ ان لیڈروں کے نزدیک سرخ گلاب ایک معمولی چیز ہے جبکہ گلاب کو اپنے دل کے خون سے سرخ کرنے والے عوام آسکر وائلڈ کے بلبل کی طرح گھاس پر مرے پڑے ہوتے ہیں۔ اب یہی عوام کورونا وائرس سے بچائو کے سلسلے میں حکومت کے تاخیری فیصلوں، کنفیوژن، بچگانہ منصوبہ بندیوں اور ٹائیگر فورس جیسی بیہودہ سیاسی چالوں کے باعث موذی وباء میں بے یارومددگار ہیں۔


ای پیپر