حکومتی آنیاں جانیاں اورکرونا
01 اپریل 2020 2020-04-01

”کرونا“ کا جادو سرچڑھ کر بول رہا ہے ہم سب مایوسی کی سی فضا میں سانس لے رہے ہیں۔ خوف، ”کرونا“ سے مرنے سے زیادہ یہ ہے کہ اشیائے خوردونوش نایاب ہورہی ہیں۔ جس انداز میں حکومت ”کرونا“ کو لے رہی ہے حالات سنبھالے نہیں جارہے .... لوگ جزوی لاک ڈاﺅن میں گھروں تک محدود نہیں ہورہے.... ہر آدمی ”آٹے“ کی تلاش میں مارا مارا پھرتا نظر آتا ہے۔ حکومت کہتی ہے ،:کھانے پینے خاص طورپر آٹے چینی چاول دالوں کی کمی نہیں ہے حکومت کے پاس وافر ذخیرہ موجود ہے۔ اگر ایسا ہے تو پنجاب کے کئے شہروں میں لوگ ”آٹے“ کے لیے کیوں خوار ہورہے ہیں؟۔اب تو لاہور کے بڑے سٹورزخالی ہورہے ہیں۔ اجناس کی بڑی منڈیاں (آٹا دال کے بڑے اڈے) بند ہیں۔ جن کے پاس آٹاموجود ہے وہ منہ مانگی قیمتیں وصول کرنے میں مصروف ہیں۔ ان سٹورز کا رش اور ”من مانیوں“ پر مشتمل ”ویڈیو کلپس“ سوشل میڈیا پر عام ہیں۔ کیا حکومت اندھی اور بہری ہوگئی ہے؟۔ وزیراعظم درخواستیں کررہے ہیں کہ ذخیرہ اندوزو! نرمی سے ناجائز فائدہ مت اٹھائیے“، حکومت اپنے احکامات پر عمل درآمد کرایا کرتی ہے، صرف بیانات اور اپیلیں نہیں کرتی؟ ایک طبقہ کہتا ہے اب تو کرفیو کے بغیر کوئی حل نہیں رہ گیا۔ خوراک لوگوں کے گھروں تک پہنچانے کے لیے سرکاری اداروں کے اراکین سے کام لیں۔ یوتھ فورس یا سیاسی پلیٹ فارم کے ذریعے ”امدادی“ (پیکج) کے تجربات پہلے بھی ناکام ہوچکے ہیں۔ حرص وہوس کے اس دور میں ہر شخص صرف اپنا اور اپنے عزیزواقارب کا مفاد پہلے سوچتا ہے اور پیسہ خرچ کرکے الیکشن لڑنے والے اپنے پیسے، پہلے پورے کرتے ہیں۔ سو ہرقسم کی امداد اور ترقیاتی فنڈز کا استعمال پچاس فیصد بھی ”منصفانہ “ نہیں ہوتا۔ یہاں تو سلائی مشینیں تقسیم کرنے والے فوٹو سیشن کراکے مشینیں اپنی قریبی خواتین کو بانٹ دیتے ہیں۔ بے نظیر انکم سکیم کا تو ساری دنیا کو پتہ لگ چکا ہے کہ سرکاری افسران اسے کھا گئے، اب تو فوج کی نگرانی میں لوگوں تک امداد پہنچائی جائے یا پھر کوئی باقاعدہ ”میکینزم“ تخلیق کیا جائے کہ سب سے انصاف ہوسکے، شہباز شریف کے آٹا تنوروں کا آٹا سٹورز پر فروخت ہوتا رہا ہے۔ ذخیرہ اندوزوں کو سرعام کسی ایک کو بھی سزانہیں ملی۔ اگر کوئی بھی سرعام لٹکا دیا جاتا تو آج کسی کو بھی ذخیرہ اندوزی یا کئی گنا مہنگی اشیاءبیچنے کی جرا¿ت نہ ہوتی ۔ابھی ایک کلپ میں دیکھ رہا تھا جس میں وزیراعظم سکیم کا آٹا” غالباً یوٹیلیٹی سٹور سے خرید کر گوندا گیا تو وہ ربڑ بن گیا۔ اب اگر اس طرح کا امدادی آٹا تقسیم ہوگا تو اس کا کیا فائدہ ؟ ممکن ہے یہ جعلی ویڈیو ہو پھر بھی انتظامیہ کو عملی اقدامات دکھانے میں سڑکوں پر دیکھیں تو اچھا خاصا ٹریفک چل رہا ہے۔ کل اتفاق سے ”میٹرو“ ٹھوکر نیاز بیگ کا چکر لگایا تو وہاں عید اور رمضان سے قبل دکھائی دینے والا رش ، ایک ”ہجوم“ کی صورت امڈا ہوا تھا۔ لوگ اپنی اپنی ٹرالیاں چاولوں، دالوں اور چینی گھی سے بھررہے تھے۔ اب اگر سپلائی معطل ہوتی ہے خدانخواستہ کھیت سے منڈی تک اشیا نہیں پہنچتیں تو آخری انجام کیا ہوگا؟۔ اس کا اندازہ ابھی بہت کم لوگوں کو ہے۔

ذخیرہ اندوزوں اور بہت پیسے والوں کو توشاید موت نہیں آنی ؟؟ وگرنہ وبا جس طرح پھیل رہی ہے اس کو مدنظر رکھا جاتا تو امراءاور صاحب ثروت حضرات کو دل کھول کر مستحق افراد کی مدد کرنی چاہیے تھی۔ مگر بعض سنگدل تاجر، دکاندار اب تک خوردنی اشیاءکئی گنا مہنگی فروخت کررہے ہیں۔ ہمارا خیال ہے کم ازکم ضلعی انتظامیہ کو ان ناجائز منافع خوروں کو تو ”نتھ“ ڈالنی چاہیے۔ آٹاکیوں اس قدر مہنگا فروخت ہورہا ہے؟ اشیائے خوردونوش کے بڑے بڑے سٹوروں پر رش دیدنی ہے۔ ان پر بھی نظر رکھنی ضروری ہے۔ پولیس کہیں کہیں جاتی ضرورہے اور وہاں سے کچھ بھی نذرانہ وصول نہ ہو تو صابن وغیرہ ہی کا تحفہ مانگ لیتے ہیں۔ اگلے روز ایک دوست بتا رہا تھا کہ وہ ایک سٹاکسٹ کے پاس بیٹھا تھاوہاں پولیس آگئی۔ اور گودام بند کرانے کا حکم دیا۔ انہوں نے لیٹردکھا دیا کہ ہمیں تو حکومت نے اس کی اجازت دے رکھی ہے۔ اس پر پولیس کو واپس آنا پڑا اور چلتے چلتے سینٹائزر اور صابن ہی مانگ لیا۔ “ واللہ اعلم بالصواب۔

ہم تو ان کالموں میں اکثرلکھتے رہے ہیں کہ انسان کو سادہ زندگی کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔ گوشت کم کھاناچاہیے۔ سبزیاں دالیں اور گڑ شکر وغیرہ کا استعمال کیا جائے۔ گھڑے کا پانی صحت کے لیے بہترین ہے مگر ہم فاسٹ فوڈز کی ڈلیوریوں کے عادی ہوچکے ہیں ہم نے کھانے پینے کے معمولات بدل لیے ہیں۔ فطرت سے کٹ کر انسان کا یہی حال ہونا تھا ، اب لوگ گھروں تک محدود ہیں اور آج بیشتر افراد دیسی اشیاءاستعمال کرنے پر آمادہ نظر آتے ہیں ہمارا خیال ہے حکومت کو عملی سطح پر بھی کچھ کرکے دکھانا چاہیے۔ ابھی تک مریضوں کیا ڈاکٹروں نرسوں کو مسائل کا سامنا ہے۔ حکومتی یوتھ فورس بن رہی ہے کب اس کی تربیت ہوگی پھر وہ گھر گھر جاکر راشن تقسیم کرے گی۔ ابھی سامان منگوایا جارہا ہے۔ میڈیکل کٹس آرہی ہیں۔ یہ سب ہوم ورک تو جنوری سے ہو جانا چاہیے تھا۔ اب تک بے روزگاروں مزدوروں کا سارا ڈیٹا انتظامیہ کے پاس ہوتا اور رقوم کے اعلان نہ ہوتے بلکہ لوگوں تک مدد پہنچنی شروع ہو جاتی۔ مگر؟

ابھی ابھی صرف بیانات اور تقریروں میں حکومت آنیاں جانیاں دیکھ رہے ہیں۔ مولا خیر!


ای پیپر