کرونا سے الگ کچھ چیخیں، کچھ آنسو
01 اپریل 2020 2020-04-01

میرے ہر طرف کرونا ہے مگر میں اس وقت کرونا کی دنیا سے باہر آیا جب مجھے میری اخباری صنعت سے ہی مہربان جناب منظور ملک کی ٹیلی فون کال موصول ہوئی، وہ چاہتے تھے کہ میں ان کے کسی دوست کی آواز بلند کروں جو جگر کے مرض میں مبتلا ہے اور اس کا پی کے ایل آئی میں کوئی آپریشن ہونے والا تھا کہ کرونا کی وبا آ گئی۔ پی کے ایل آئی وہ ہسپتال ہے جس میں سب سے زیادہ اور بہترین وینٹی لیٹرز اور آئسولیشن کی سہولیات دستیاب ہیں۔ حکومت نے فیصلہ کیا کہ پی کے ایل آئی میں معمول کا علاج معالجہ بند کر کے وہاں کرونا کا مرکز بنا دیا جائے۔ ملک صاحب بتا رہے تھے کہ ان کے دوست کی حالت بہت خراب ہے اور خدانخواستہ کوئی حادثہ ہو سکتا ہے۔ میں نے ان سے معذرت کی کہ یہ پالیسی فیصلہ ہے اور یقینی طو ر میرے جیسے چھوٹے صحافی کے لکھنے یا کہنے پر تبدیل نہیں ہو گا مگر میں بات کروں گا۔

مجھے اس سے پہلے جناب شاہد سلطا ن کی فون کال بھی موصول ہوئی تھی اور انہوں نے بتایا تھا کہ پنجاب حکومت نے بارہ مارچ سے ایک مرتبہ پھر کینسر کے مستحق مریضوں کی مفت ادویات بند کر دی ہیں۔ا نہوں نے مجھے بہت سارے کینسر پیشنٹس کے ویڈیو پیغامات بھی بھجوائے۔ مریض بتا رہے تھے کہ کرونا آنے کے بعد کام نہیں رہا، ان کے پاس گھر کا کرایہ دینے اور کچن میں راشن ڈالنے تک کے لئے پیسے نہیں اور اگر ہوں بھی تو وہ کینسر کی مہنگی ادویات افورڈ نہیں کرسکتے۔ حکومت پنجاب نے اس سے پہلے گذشتہ برس اگست، ستمبر میں یہی حرکت کی تھی۔ جب مریض مال روڈ پر سراپا احتجاج ہوئے تھے تو پنجاب اسمبلی میں بھی ان کی آہوں کی صدا اور آنسووں کی نمی پہنچی تھی اوراس عمران خان کی قیادت میں بننے والی حکومت کو بیک فٹ پر جانا پڑا تھا جس عمران خان کی والدہ خود کینسر پیشنٹ تھیں اور اسی مرض کے درد کو برداشت کرتے ہوئے خالق حقیقی سے جا ملی تھیں۔انہی عمران خان صاحب نے اپنی والدہ کے نام پر ایک مہم چلائی تھی اور لاہور میں ان کے نام پر پہلا پرائیویٹ کینسر ریسرچ ہسپتال بنایا تھا۔ میں نے پہلے بھی کہا اور اب پھر کہوں گا کہ کسی دریا کے کنارے کوئی کتا پیاس سے مرجائے تو اس کی بھی وزیراعظم سے پوچھ گچھ ہو گی مگر میں یقین رکھتا ہوں کہ اگر کینسر کا ایک بھی مریض ان کی وزارت عظمیٰ میں بغیر دوائیوں کے مر گیا توحشر کے روز ان کی والدہ ان سے جواب طلب کریں گی۔ میرے پاس آنے والی ویڈیوز میں شمائلہ بتا رہی تھی کہ ادویات نہ ملنے کی وجہ سے اس کے منہ اور ناک وغیرہ سے خون آنا شروع ہو گیا ہے اور علی رضا جناح ہسپتا ل کے سامنے بے یاروومددگار پڑا تھا کیونکہ ہسپتال میں اس وقت مرکزی کام کرونا کا ہو رہا ہے، میاں نوید بتا رہے تھے کہ حکومت اس ہسپتال کو بھی کرونا کے لئے مختص کرنے کاسوچ رہی ہے۔

میں جس وقت یہ تحریر لکھ رہا ہوں تو اب تک کرونا کے مریضوں کی تعداد دو ہزار تک نہیں پہنچی، ایک مہینے میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد پچیس تک ہے مگرمیرے پاس کچھ اور اعداد و شمار بھی ہیں جو اسلامی جمہوریہ پاکستان میں رہنے والے انہی لوگوں کے ہیں جن کے علاج، صحت اور زندگی کی ذمہ دار حکومت ہے ، جی ہاں، اسی ملک میں ذیابیطس یعنی شوگر، جسے بلڈ پریشر کی طرح خاموش قاتل کہا جاتا ہے، کے مریضوں کی تعداد ساڑھے پینتیس ملین یعنی ساڑھے تین کروڑ سے بھی پانچ لاکھ زیادہ ہے اور اسی طرح بائیس کروڑ کی آبادی میں ہر پانچواں پاکستانی ہائپر ٹینشن یعنی بلڈ پریشر کا مریض ہے اور یہ تعداد شوگر کے مریضوں سے بھی زیادہ بنتی ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق پاکستان میں ہیپاٹائٹس بی اور سی کے مصدقہ مریضوں کی تعداد ڈیڑھ کروڑ ہے۔ دل کے مرض پر آجائیں تو ہر تیسری موت کی ذمہ داری کارڈیو ویسکولر ڈائزیز پر ہے اور ماہرین کے مطابق پاکستان میں ہر ایک گھنٹے میں اس سے مرنے کی والوں کی تعداد چھیالیس ہے ( یاد کیجئے کہ کرونا میں تادم تحریر پچیس اموات ریکارڈ پر لائی گئی ہیں)۔

کینسر انڈیکس کی عالمی ویب سائیٹ پر جائیے، ہربرس مرنے والے پاکستانیوں کی تعداد ایک لاکھ سے بھی کچھ زیادہ ہے ۔ ہم ایڈز کے بارے میں کبھی اس طرح پریشان نہیں ہوتے جس سے ایک لاکھ ساٹھ ہزار مر ے ہیں۔ ہر ایک لاکھ پاکستانیوں میں سے پچانوے فالج کا شکار ہیں۔ عالمی دباو کی وجہ سے پولیو کی طرف ہماری کچھ توجہ ہے اور یہاں بھی ہم نائیجیریا اور افغانستان کے ساتھ کھڑے ہیں، ہندوستان، صومالیہ اور سوڈان تک اس پر قابو پا چکے ہیں۔ ماوں اور نوزائیدہ بچوں کی اموات سے لے کرمعدے، جگر، گردوں وغیرہ کے امراض کو الگ سے گوگل کر لیجئے کہ میں نے یہ اعداد و شمار کسی راکٹ سائنس سے اکٹھے نہیں کئے بلکہ ڈبلیو ایچ او اور سی ڈی سی جیسی ویب سائٹس کو پڑھا ہے، وہ رپورٹس پڑھی ہیں جو مختلف عالمی دنوں پر ماہرین مختلف کانفرنسوں میں پیش کرتے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ کیا یہ بیماریاں اہم نہیں، کیا ان ے مریضوں کی زندگیوں کی کوئی اہمیت نہیں،یہ حکومتیں اور میڈیا ہی ہوتے ہے جو مل جل کر کسی ایشو کو ایشو بناتے ہیں۔ ہمارے ہاں بیماریاں بھی فیشن کے طور پران ہوتی ہیں اور پھر ہماری توجہ سے باہر ہوجاتی ہیں۔ سوال تو بنتا ہے کہ اب ڈینگی کہاں ہے اوریہ سوال مجھے گذشتہ شام اپنی مسجد کے صحن میں مغرب کی نماز ادا کرتے ہوئے بار بار آیا جب صحت مند قسم کے کافی سارے مچھر مجھ پر حملہ آور ہورہے تھے۔ اس وقت حکومت اور اپوزیشن کے تمام تر فیصلہ سازوں کی توجہ اورمیڈیا کی ٹرانسمیشن کرونا کے گرد ہے۔ میں نے گذشتہ روز پروگرام کرتے ہوئے سوچا اور کہہ بھی دیا کہ ہم سکرینوں پر بیٹھ کر اپنے لوگوں کو روزانہ کہتے ہیں کہ کرونا سے ڈرنا نہیں ہے جب ہم انہیں کرونا سے ڈرا رہے ہوتے ہیں۔

دو، تین اہم سوال ابھرے، ایک یہ تھا کہ کرونا ایک وبا ہے اس وجہ سے ڈسکس ہو رہی ہے تواس کا جواب یہ ہے کہ آپ کرونا سے ڈر رہے ہیں اس لئے وہ آپ کی دلچسپی کا موضوع ہے ورنہ جو لوگ اس وقت کینسر کی وجہ سے مر رہے ہیں ان کے لئے کینسر کا مرض اور علاج اہم ہے۔ یہ بھی کہا گیا کہ کرونا چھوت کی بیماری ہے اس لئے اس کے مریض بڑھنے کا اندیشہ ہے تو سوال یہ ہے کہ جو چھوت کی بیماریاں نہیں ہیں ان کے مریضوں کی تعداد کیوں ہزاروں، لاکھوں اور کروڑوں میں ہورہی ہے ۔ یہ بھی دلیل ہے کہ کرونا کا علاج دریافت نہیں ہوا مگر دلچسپ امر یہ ہے کہ اس سے روبہ صحت ہونے والوں کی تعداد باقی بہت سارے امراض سے کہیں زیادہ ہے۔ میں یہ ہرگز نہیںکہتا کہ کرونا کی طرف توجہ نہیں دینی چاہیے مگر یہ ضرور کہتا ہوں کہ کرونا کے چند مریضوں کو بچاتے بچاتے ہمیں کینسر، ٹی بی، ہیپاٹائٹس، شوگر اور بلڈ پریشر کے مریضوں کو موت کے منہ میں نہیں پہنچا دینا۔ آپ ہزار مرتبہ کسی بھی ہسپتال کو کرونا کے لئے مخصوص کریں مگر اس بات کا جواب بھی دے دیں کہ اس ہسپتال کے مریض اب کہاں جائیں۔ آپ بارہ ، بارہ سو ارب روپے کرونا کے لئے ضرور مختص کریں مگر کیا باقی مریض سوتیلے ہیں یا ان کی زندگیاں اہم نہیں ہیں؟


ای پیپر