اِداروں پر خفگی
01 اپریل 2019 2019-04-01

سیاسی قیادت بھی عجیب ہے اقتدار حاصل کرنے کے لیے فوج کی طرف دیکھتی ہے لیکن عوامی مقبولیت بڑھانے کی طرف توجہ نہیں دیتی اگر سہارے تلاش کرنے کی بجائے عوامی بھلائی کے کاموں میں دلچسپی لے تو سہاروں کی ضرورت نہ رہتی لیکن ہو کچھ یوں رہا ہے کہ اقتدار میں آتے ہی تجوریاں بھرنے لگ جاتی ہے اور جب کرپشن بارے پوچھ تاچھ ہو تو چمڑی اور دمڑی بچانے کے لیے الزام تراشی شروع کر دیتی ہے یہ روش کسی طور لائقِ تحسین نہیں لیکن زاتی مفاد پر قومی مفاد کی قربانی کی ایسی روایت ہمارے ہاں عام ہے ۔

بلاول نے کالعدم تنظیموں کے خلاف ہونے والے ایکشن پر جس طرح اُنگلی اُٹھائی ہے اور وفاقی وزراء شیخ رشید،اسد عمر اور شہر یار آفریدی پر دہشت گرد وں سے روابط کا الزام عائد کرتے ہوئے ناپسندیدہ عناصر کے ساتھ اُن کی تصاویر جاری کی ہیں یہ اپنے اِداروں پر خفگی کے سوا کچھ نہیں۔ بلاول کے بیان اور جاری کردہ تصاویر کو بھارتی میڈیا نمایاں کوریج دیتے ہوئے بھارتی موقف کی تصدیق کے طور پر پیش کر رہا ہے جانے ہماری سیاسی قیادت لب کشائی کرتے ہوئے ذاتی مفاد سے آگے دیکھنے سے کیوں قاصر رہتی ہے؟حالانکہ لب کشائی سے قبل نتائج کے بارے بھی غورو فکر دانمشمندانہ طرزِ عمل ہے یہ بیان اِس امر کا اغماض ہے کہ بلاول کواپنے خاندان میں اہمیت تو مل گئی ہے لیکن قیادت کے منصب کا ابھی اہل نہیں ۔

پاکستان دنیا کا واحد اسلامی ملک ہے جس کے پاس جوہری ہتھیار ہیں جو دنیا کو پسند نہیں کبھی اسرائیل بھارت کے ساتھ مل کر پاکستان کی ایٹمی تنصیبات تباہ کرنے کی سازش کرتا ہے تو کبھی امریکہ کے پیٹ میں مروڑ اُٹھتا ہے اور وہ غیر محفوظ ایٹمی تنصیبات کا واویلا کرنا شروع کر دیتا ہے حالانکہ مشرقِ وسطیٰ میں اجس طرح سرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم کسی سے ڈھکے چھُپے نہیں جنوبی ایشیا میں بھارت بھی جارح ریاست کا لقب حاصل کر چکا ہے علاوہ ازیں بھارت کی ایٹمی تنصیبات میں حادثے معمول ہیں جن سے ہونے والی لیکج عیاں حقیقت ہے مگر ایسا لگتا

ہے اسرائیل اور بھارت جو چاہیں کرتے رہیں کسی کو ناقابلِ قبول نہیں لیکن کوئی اسلامی ملک ایٹمی طاقت بن جائے کسی کو گوارہ نہیں اغیار تو خیر سازشیں کرتے رہتے ہیں لیکن جب ہمارے لیڈر بھی غیروں کی زبان بولنے لگیں توکِسے بُرا بھلا کہیں ؟کیوں کہ جواب میں یہ بھی سُننے کو مل سکتا ہے کہ ہماری باتیں سچ ہیں اسی لیے تو آپ کے گھر سے تصدیق ہو رہی ہے ۔

موجودہ امریکی انتظامیہ بھارت نواز ہے انتخابی مُہم کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک سے زائد بار کہا کہ مجھے انڈیا سے محبت ہے جس نے پاک امریکہ قریبی مراسم پر یقین رکھنے والوں کو چونکا یا تھا مگر منتخب ہوکر قریبی اتحادی پر الزامات کی بوچھاڑ پر سبھی بھونچکا رہ گئے کیونکہ جب بھی امریکی مفادات خطرے سے دوچار ہوئے پاکستان نے کندھا پیش کیا اور اپنے اتحادی کا ساتھ دیا مگر تلخ سچ یہ بھی ہے کہ جب پاکستان کو ضرورت محسوس ہوئی تو امریکہ نے لاتعلقی اختیار کر لی ایسا انداز کسی دوست کے شایانِ شان نہیں امداد کی بندش سے بھی موجودہ امریکی انتظامیہ مطمئن نہیں اور وہ چاہتی ہے کہ پاکستان کے لیے اِتنی مشکلات پیدا کر دی جائیں جن کا حل کسی اور ملک کے پاس نہ ہو تاکہ پاکستان کو بھارت کا طفیلی ملک بنایا جاسکے لیکن واشنگٹن کے زعما جانے کیوں بھول جاتے ہیں کہ پاکستانی اپنی آزادی و خود مختاری کے بارے بہت حساس ہیں اور اِس حوالے سے کوئی سمجھوتہ کرنے پر تیار نہیں اِ س لیے چند لوگ چاہے غیروں کے موقف کی تائید کر بھی لیں توغالب اکثریت ایسا کرنے والوں کو ناپسند کرتی ہے قیادت کہلوانے کے شوقین یہ کیوں نہیں سوچتے کہ وطن کے اِداروں پر اُنگلی اُٹھا کر وہ ملک کا بھلا نہیں کر رہے بلکہ ملکی مفاد کو خطرے میں ڈال رہے ہیں جانے یہ کِس مٹی کے بنے ہیں جو گرتی مقبولیت سے بھی سبق نہیں سیکھتے اورمقبولیت کی بلندی کی طرف سفر کرنے کی بجائے پاتال کی طرف بگٹڈ ہیں پاک بھارت موجودہ کشیدگی کے تناظر میں بلاول کا بیان اپنے ہی ملک کی سُبکی کرانے کے مترادف ہے ۔

مائیک پومپیو نے بھی تو یہی کہا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردوں کے محفوظ اڈے ہیں اور پاکستان کے ایٹمی ہتھیار غیر محفوظ ہیں جو دہشت گردوں کے ہاتھ لگ سکتے ہیں امریکی وزیرِ خارجہ کے موقف کی بلاول کے بیان سے تائید ہوتی ہے حسین حقانی جیسا ناسور بھی مضامین لکھ کر یہی کچھ باور کرانے کی جستجو میں ہے ایسی غیرزمہ داری کے مرتکب افراد کو رہنما کے منصب پر فائز ہونا چاہیے ؟ ہر گز نہیں۔ وطن دشمن بیانات سے ظاہر ہوتا ہے بلاول کی تربیت میں کمی ہے اور وہ اہلیت و صلاحیت سے عاری ہے اسی لیے معامالات کو سطحی انداز میں دیکھتے ہیں وگرنہ غیر زمہ داری سے گریز کرتے اگر ایسا شخص کسی زمہ دار عہدے پر فائز ہوجائے تو ملک کو نقصان پہنچنے کا احتمال ہے امریکیوں کی تو سمجھ آتی ہے کہ وہ بھارت کو علاقائی طاقت بنانے کے مشن پر ہیں اور رکاوٹ سمجھ کر پاکستان کو ہدفِ تنقید بنارہے ہیں لیکن ہمارے لیڈر کیوں فہم و فراست سے عاری شخص جیسا طرزِ عمل اپنائے ہوئے ہیں اور اپنے ملک کو دفاعی پوزیشن پر لانے کی تگ ودو میں ہیں ۔

پاک فوج نے نامساعد حالات میں بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے ملک سے دہشت گردی کا ناسور ختم کرنے میں پاک فوج کاکردار کسی سے پوشیدہ نہیں آج اگر ملک میں امن وسکون کی فضا ہے تو یہ سب پاک فوج کی قربانیوں کی بدولت ہے لیکن سیاسی بونے اقتدار کے لیے بھی فوج کی طرف دیکھتے ہیں اور ذاتی مشکلات کا سدِ باب بھی فوج کے ہاتھوں ڈھونڈتے ہیں یہ اندازِفکر کسی طور لائقِ تحسین نہیں اگر آصف زردار ی اور بلاول کو نیب سے پوچھ تاچھ کا سامنا ہے تو اِس میں ملک کی عسکری قیادت کا ہاتھ نہیں بلکہ آج کی صورتحال اُن کی اپنی ہی پیدا کردہ ہے نیب تو محض کوشاں ہے کہ اِس سوال کا جواب تلاش کیا جائے کہ چند برسوں میں اثاثے ہزاروں گُنا کیونکر بڑھ گئے ؟آمدن اور اثاثوں میں غیر معمولی فرق کی وجوہات کیا ہیں؟ کیا ملک کے اِداروں کا اِتنا بھی حق نہیں کہ وہ رہنما کہلوانے کے خواہشمندوں سے آمدن کے زرائع کی بابت دریافت کر سکیں قوم کو بھی ووٹ کا فیصلہ کرتے ہوئے پیشِ نظر رکھنا چاہیے کہ وہ کون لوگ ہیں جو اپنے مفاد پر قومی مفاد کی قربانی سے بھی نہیں ہچکچاتے اور امریکہ و بھارت کے موقف کی تقویت کاباعث بنتے ہیں۔


ای پیپر