تشدّد کہاں سے کہاں تک
01 اپریل 2019 2019-04-01

جامع الازہر سے تعلیم یافتہ عربی ، فارسی، انگریزی پر عبور رکھنے والے قبلہ محمد صادق خان تنولی کسٹم کے اعلیٰ آفیسر ہیں۔ جن کے گھر بہت کم لوگوں کا آنا جانا ہے بس چند صاحب کشف و تصوف لوگ ہی ان کے دوستوں میں شمار ہوتے ہیں جبکہ کچھ شاطر اور موقع پرست ان کے عہدے سے دوستی رکھتے رہے مگر اُن کے باطن کا انکشاف وقت کے ساتھ ساتھ جناب محمد صادق پر ہوتا گیا۔ قبلہ اپنے نام کے ساتھ خان اور تنولی کا سر نیم اس لیے نہیں لگاتے کہ خان کا لفظ بولنے سے اپنا تعارف کرانے والا گردن میں ہلکا سا جھٹکا دیتا ہے جو تکبر کا شائبہ سا پیدا کرتا ہے ہ

جناب محمد صادق فرض عبادت کے علاوہ کوشش کرتے ہیں کہ جو عبادت کریں وہ صرف اللہ اور ان کے درمیان ہو جب لاہور کلکٹریٹ اپریزمنٹ میں کلکٹر تعینات تھے ان کے ماتحت تھے دیگر لوگ ان کے دفتر میں اکٹھے ہوتے،ہفتے کے زیادہ دن چائے کے دفتری دور میں جناب محمد صادق صاحب کوئی بہانا بنا کر چائے نہ پیتے ، آئے ہوئے مہمان یا بیٹھے ہوئے ماتحت کو پلا دیتے کیونکہ موصوف اکثر روزے سے ہوتے، عجز و انکساری ایسی کہ ماتحتوں کو شرمندہ کر دے۔ انتہائی شائستگی ، آہستگی اور دھیمے لہجے سے بات کرتے ہیں خوشامد سننے کا یہ عالم کہ اگر کوئی ایک لفظ تعریف میں بول دے تو موضوع بدل دیتے ہیں اور چہرہ زرد ہو جاتا ہے۔ غیبت سننا اور کرنا گویا ان کے ہاں حرام ترین فعل ہو۔ بات زیادہ بڑھ گئی ۔ میری ان کی اقتداء میں نماز کی خواہش ہوئی تو میں نے مغرب کے وقت فون پر چند منٹ کے لیے آنے کی بات کی فرمانے لگے کہ آجائیں میں نے کہا کہ نماز آپ کے ساتھ پڑھوں گا الگ سادہ سا مہمان خانہ ہے جدھر میں نے درخواست کی کہ آپ نماز کی امامت کریں کہنے لگے کہ آپ پڑھائیں میں نے کہا میری خواہش ہے پوری فرما دیں میرے اصرار پر نماز میں امامت کی سبحان اللہ تلاوت کے ایک ایک لفظ نے جو سرشار کیا جو مخمور کیا اور جو اللہ کے

حضور پیش ہونے کا احساس دلایا اس کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔ جب بھی ملاقات ہوئی کوئی نہ کوئی سنہری بات سننے کو ملی یہ بات بھی انہوں نے بتائی جو میں نے اکثر اپنے کالموں میں دہرائی ہے کہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کے پا س ایک شخص حاضر ہوا کہ میں تبلیغ کے سلسلہ میں باہر جا رہا ہوں کوئی نصیحت فرما دیں۔ امام علیہ السلام نے فرمایا ’’کوشش کرنا کہ تمہیں تبلیغ کے سلسلہ میں زبان کا استعمال کم سے کم کرنا پڑے۔ امام علیہ السلام کی یہ نصیحت مجھے اکثر یاد آتی ہے جب پیشہ ور لوگ تبلیغ کے کام میں ہاتھ ڈال لیتے ہیں مگر اس وقت شدت سے یاد آئی جب میرے دوست حامد بابر جو آج کل کسٹم انٹیلی جنس لاہور میں تعینات ہیں نے ایک ویڈیو کلپ بھیجا جس میں ایک مولوی صاحب بچوں کو قرآن (سپارہ پڑھا) رہے ہیں، الفاظ کی تصحیح کروا رہے ہیں شاید اتنا تشدد کسی تھانے میں بھی آج کل نہیں ہوتا جو یہ معلم اُس بچے پر توڑ رہے ہیں اور حیرت یہ تھی کہ اس ویڈیو میں موجود دوسرے معلم اور بچے مطمئن بیٹھے ہیں جیسے یہ انتہائی معمول کا کام ہو ۔ حامد بابر نے ساتھ لکھا کہ سر!اس پر ضرور لکھیں۔ ویڈیو کلپ میں معلم صاحب پڑھا تو قرآن پاک رہے ہیں لیکن جو تشدد روا رکھا ہے ، وہ بچہ پڑھ تو لے گا یاد بھی کر سکے گا مگر قرآن عظیم جس کی عظمت کا پوری دنیا کو اعتراف ہے کے احکامات پر عمل کیسے کرے گا پیار کے بدلے پیار ملتا ہے نیکی کا بدلہ نیکی کے سوا کیا ہے؟ تشدد کے ذریعے دی جانے والی تعلیم کیا دے گی۔ میرے خیال سے وہ بچہ جب بھی قرآن پڑھے گا تشدد ضرور یاد آئے گا۔ مجھے ایک طرف نصیحت کا ایک ایک لفظ یاد آنے لگا اور ادھر زبان تو درکنار مولوی صاحب کا بس نہیں کے بچے پر تشدد کے لیے طاقت بڑھانے کے لیے کسی سے طاقت مستعار بھی لے لیتے۔ یہی حالت ہمارے سرکاری سکولوں کی تھی بلکہ اب بھی ہے ان سکولوں کے لائق بچے بھی بڑی جماعتوں میں جا کر استاد سے سوال کرنے کی جرأت نہیں کرتے کیونکہ طالب علم کو یوں ڈانٹا جاتا کہ ساری زندگی خوف، سہم اور شرم اس پر شعور کے دروازے بند کر دیتا۔ اچھے سکولوں کے یعنی جن میں تشدد نہیں انسانی بنیادوں پر تعلیم دی جاتی ہے کے Everge طالب علم چھوٹی سی کنفیوژن بھی دور کرنے کے لیے استاد سے سوال کرتے ہیں جب تک کہ مفہوم واضح نہ ہو جائے جبکہ خوف، تشدد، وحشت کے ماحول پر مبنی سکولوں کے طلباء لائق ترین اور پوزیشن ہولڈرز ہونے کے باوجود کلاس میں سوال کرنے کی جرأت نہ کرتے، خوف اور تربیت ساتھ ساتھ نہیں چلتے۔ ایک خوفزدہ معاشرہ مجرم تو بنا سکتا ہے۔ کریمنل تو پیدا کر سکتا CREATIVE پیدا نہیں کر سکتا۔ ہمارے ہاں تشدد، دہشت، وحشت نے معاشرے کو برباد کر کے رکھ دیا ۔ ویسے تو عمران خان کے گرد بدعنوانوں کا ہجوم بزدار کا وزیراعلیٰ ہونا بھی پنجاب کے عوام پر کسی تشدد سے کم نہیں۔ مہنگائی کی ہر مہینے نئی لہر ناقابل برداشت تشدد ہے۔ اگر خوانخواستہ بدعنوانی ختم یا کم کرنے میں عمران خان ناکام بھی ہو گیا تو یہ بڑا سانحہ ہو گا۔عثمان خان اور بشارت احمد وہرہ پتا نہیں متفق ہوں کہ نہ ہوں کہ تشدد، دہشت ، وحشت ، خوف بادشاہوں کے زمانے کی سوغات ہیں جواب صرف ڈکٹیٹروں کے ادوار میں پروان چڑھتی ہے کیونکہ قانون کی جگہ دہشت لے لیتی ہے لہٰذا ہمارے ہاں سانحہ یہ ہو گیا کہ تشدد، دہشت اور وحشت مدرسے ، سکولوں، پرائیویٹ اور حکومتی اداروں سے اقتدار کے ایوانوں کی پہچان بن گئی وہی وزیر چہیتا ہے جو زیادہ بڑھک باز اور ایکشن پر مبنی بیان بازی کرے ، وہی اینکر اور رائٹر سنا پڑھا اور دیکھا جاتا ہے جو دہشت ، وحشت، تشدد اور مایوسی بانٹے۔ ابو ذر معظم جیسے اینکرز اور کالم نگار نئی نسل کا بہترین تعارف ہیں۔ اللہ کرے ہم اپنی زندگیوں میں شائستگی اور اخلاقیات کے بحران سے نکلے ہوئے وطن عزیز کو دیکھ پائیں ورنہ آنے والی نسلوں کے لیے اپنی بہتری کے لیے ترقی یافتہ ممالک کی تہذیبیں اپنانا ناگزیر ہو گا کیونکہ وہ تہذیبیں ہمارے اسلاف کے اقوال کی بنیاد پر قائم کر دی گئیں اور جن معاشروں کی قومی ثقافت اورتہذیب فتح کر لی جائیں ۔ سرحدوں کی ضرورت نہیں رہا کرتی ۔ ہمیں تعلیم و تربیت اور معاملات زندگی کے لیے تشدد ، دہشت اور وحشت کو خیر باد کہنا ہو گا۔


ای پیپر