عافیہ صدیقی کی قید بے گناہی کے سولہ سال !
01 اپریل 2019 2019-04-01

ڈاکٹر عافیہ صدیقی 2 مارچ 1972 ء کو کراچی کے ایک مذہبی ،متوسط گھرانے میں پیدا ہوئی ۔ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے 47 واںیوم پیدائش2 مارچ 2019ء کو تھا اور اسی ماہ30مارچ کو اسے قید بے گناہی میں 16سال مکمل ہو رہے ہیں،اوراسی ماہ مارچ کی 16 کو کہا جا رہا تھا کہ عافیہ صدیقی رہا ہو کر وطن واپس آ رہی ہے ۔عوام میں اس خبر سے خوشی کی لہر دوڑ گئی ۔سب سے پہلے عافیہ صدیقی کی رہائی کا دعوی سینئر تجزیہ کار اوریا مقبول جان نے ایک نجی ٹی وی نیو نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کیا تھا ۔اوریا مقبول جان نے کہا تھا کہ طالبان اور امریکیوں کے درمیان ایک ہزار کے قریب قیدیوں کی فہرست کا تبادلہ ہوا ہے۔

پاکستان کی حکومت کی جانب سے طالبان سے کہا گیا کہ وہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا نام بھی اس فہرست میں شامل کریں، طالبان نے بھی اس کی تصدیق کی ہے کہ انہوں نے پاکستانی حکومت کے کہنے پر عافیہ صدیقی کا نام فہرست میں ڈالا ہے۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے ان کی رہائی کے حوالے سے جاری کوششوں کی تصدیق کی تھی۔لیکن اب جبکہ مارچ گزر چکا ہے کوئی مثبت خبر نہیں ملی ۔سوشل میڈیا پر اس مہم کو جس شد مد سے اٹھایا گیا تھا وہ جوش اچانک ختم ہو چکا ہے ۔ہر ایک سیاسی پارٹی کے کارکن اس رہائی کا کریڈٹ لینے کو بے تاب نظر آ رہے تھے ۔ہمارے ہاں افواہ پر یقین کرنے کا مرض نہ جانے کب ختم ہوگا ۔حالانکہ اسلام کا واضح حکم ہے کہ ملنے والی خبر کی تصدیق کر لیا کریں ۔

ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو 2003 ء میں گلشن اقبال کے علاقے سے اغوا کیا گیا۔ کہا جاتا ہے کہ اس وقت پاکستان کی خفیہ ایجنسی نے اسے گرفتار (جسے اغواکہنا چاہیے)کر کے ایف بی آئی کے حوالے کر دیا ۔(یعنی بیچ دیا)۔یہ خبر بھی گردش کر تی رہی کہ ڈاکٹر عافیہ خود ہی غائب ہو گئی ہیں ۔پاکستانی حکومت نے اس وقت بھی میڈیا پر آنے والی اغوا کی خبروں کی تردید کی تھی جن کے تحت پاکستان کے خفیہ ادارے (آئی ایس آئی) کے بارے میں یہ کہا گیا کہ انٹر سروسز انٹیلی جنس نے عافیہ کو اغوا کیا اور امریکہ کے حوالے کیا ہے ۔معاملہ اتنا الجھ گیا تھا یا الجھا دیا گیا تھا کہ عام آدمی سچائی تک نہیں پہنچ سکتا تھا ۔لیکن زیادہ تر عوام نے اس بات کو یقین جانا کہ پاکستان کی حکومت نے عافیہ صدیقی کو خود امریکہ کے حوالے کر دیا ہے ۔

کہا جاتا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو پانچ سال جب خفیہ حراست میں رکھا گیا تو ان کے بیٹے احمد ( پیدائش1996 )مریم (پیدائش1998 )دونوں کو اس سے الگ قید رکھا گیااور اس کے سب سے چھوٹے بیٹے سلیمان کو ان کے ساتھ ہی رکھا گیا جو کہ قید کی سختی کو برداشت نہ کرتے ہوئے انتقال کر گیا ۔ان پانچ سال میں اس دوران اس کے بارے میں کسی کو کوئی علم نہیں تھا کہ عافیہ صدیقی کہاں ہیں ۔ان کے بارے میں کوئی حتمی خبر نہیں ملی ۔ان کی بہن فوزیہ صدیقی نے اپنی بہن کے لیے آواز اٹھائی ۔ان پانچ سال کے بعد جب پاکستانی نژاد برطانوی صحافی معظم بیگ (جو کہ بگرام جیل اور گوانتاموبے میں قید رہ چکا تھا)نے کتاب لکھی جس میں ایک خاتون کا ذکر کیا ،جس کا نام قیدی نمبر650 تھا اس کی کوئی شناخت نہ تھی۔

صحافی معظم بیگ کے بارے میںیہ بات بڑی اہمیت رکھتی ہے کہ اسے بھی پرویز مشرف دور میں اسلام آباد سے گرفتار کر کے امریکہ کے حوالے کیا گیا تھا ۔ انہی دنوں معروف صحافی ریڈلی (جو کہ طالبان کی قید میں بھی رہی اور ان کے حسن سلوک کی وجہ سے مسلمان ہو گئی) نے اپنی کتاب میں بگرام کی جیل میں قید ایک خاتون کا ذکر کیا جسے "گرے لیڈی آف بگرام" کے نام سے پکارا جاتا تھا ۔7 جولائی 2008 ء کو برطانوی صحافی ریڈلی نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کی اور یہ انکشاف کیا کہ قیدی 650 عافیہ صدیقی بگرام جیل میں قید ہے ۔اور اس کے ساتھ انسانیت سوز سلوک ہو رہا ہے۔

ان دو واقعات کے بعد امریکہ نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو 5 اگست 2008ء کو نیویارک کی عدالت میں پیش کیا ،ان پر جو الزام لگایا گیا مکمل جھوٹ کا پلندہ تھا کہ عافیہ کو 17 جولائی کو گورنر غزنی کے دفتر کے باہر سے گرفتار کیا گیا ہے اس کے پاس ایسی دستاویزات تھیں جن میں بم بنانے کے طریقے درج تھے اور یہ بیگ میں کچھ خطرناک سیال مادے تھے ۔ان پر یہ بھی الزام لگایا گیا کہ انہوں نے بگرام جیل میں امریکی فوجیوں پر ایک محافظ سے گن چھین کر گولیاں چلائیں اور جوابی فائرنگ سے شدید زخمی ہوئیں ۔دنیا بھر کے تجزیہ نگاروں اور قانونی ماہرین نے اس کہانی کو ناقابل یقین کہا ہے ۔اسی ناکردہ جرم کی وجہ سے عافیہ کو 86 سال قید کی سزا ہوئی ہے ۔

ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا تعلق ایک ایسے گھرانے سے ہے جو انتہائی پڑھا لکھاہے۔ان کے والد محمد صدیقی ڈاکٹر تھے ۔ عافیہ نے قرآن حفظ کیا۔ عافیہ نے اپنی تعلیم کا بڑا حصہ یونیورسٹی آف ٹیکساس سے مکمل کیا ۔جہاں انہوں نے MIT کے تحت بائیالوجی میں گریجویشن کی ،اس کے بعد امریکہ میں ہی علم الاعصاب (دماغی علوم ) پر تحقیق کر کے PHD کی ۔اس دوران ان کے کچھ تحقیقی مضامین بھی ۔ مختلف جرائد میں شائع ہوئے ۔ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے پاکستانی نژا دڈاکٹر امجد خان سے شادی کی جس سے تین بچے ہوئے بڑا بیٹا احمد ،مریم،سلیمان یہ شادی کامیاب نہ ہو سکی طلاق ہو گئی ۔طلاق کے بعد ڈاکٹر عافیہ اپنے بچوں کے ساتھ اپنی والدہ کے ساتھ کراچی میں رہنے لگی ۔جو کہ گلشن اقبال میں مقیم تھیں ۔

عافیہ صدیقی 30 مارچ 2003 ء کواپنی والدہ کے گھر سے کراچی ائر پورٹ کے لیے ٹیکسی میں سوار ہوئیں ان کے ساتھ تین بچے تھے بڑا بیٹا احمد اس وقت چار سال کا ،اس سے دو سال چھوٹی بیٹی مریم اور سلیمان صرف ایک ماہ کا تھا ۔کہا جاتا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی دوسری شادی 9/11 کے حملے کے ماسٹر مائنڈ شیخ محمد خالد کے بھتیجے عمر بلوچ سے ہوئی ۔یہ ہی سب سے بڑی وجہ ہے جو ان کا تعلق القاعدہ سے جوڑا جاتا ہے ۔جس وقت عافیہ کو اغوا کیا گیا اس وقت وہ آغا خان ہسپتال کراچی میں کام کر رہی تھیں ۔ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی بہن نے " عافیہ موومنٹ " بنائی اس کے تحت وہ در در جا کر انصاف کے لیے ، عافیہ کی قید بے گناہی سے رہائی کے دھکے کھا رہی ہے ۔

بہر حال عمران خان ملک کے اس وقت وزیر اعظم ہیں وہ جب حکومت میں نہیں تھے تو عافیہ صدیقی کی رہائی بارے سرگرم رہے ۔اب اللہ نے حکومت دی ہے وہ اگر امریکہ سے عافیہ کی رہائی کا کہیں تو ممکن ہے کہ عافیہ کو رہا کر دیا جائے ۔ اس وقت چونکہ عمران خان ہی اس قوم کے قائد ہیں اور اس لحاظ سے تمام تر ذمہ داری عمران پر ہی ہے اور عوام کو عمران خان سے بڑی امیدیں وابستہ ہیں کہ وہ ضرور کوئی عملی قدم اٹھائیں گے ۔ہم سب ڈاکٹر عافیہ صدیقی صاحبہ کیلئے دعاگو ہیں کہ وہ جلد ازجلد رہا ہوجائے۔ آمین یا رب العالمین


ای پیپر