جہانگیر ترین کی وجہ سے (ن) لیگ کو اعتراض کا موقع ملتا ہے: شاہ محمود قریشی
01 اپریل 2019 (16:11) 2019-04-01

لاہور: وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ جہانگیر ترین کو سوچنا ہو گا کہ جب وہ سرکاری اجلاسوں میں شرکت کرتے ہیں تو (ن) لیگ کو اعتراض کا موقع ملتا ہے، جہانگیر ترین اپنی تجاویز ضرور دیں لیکن پس پردہ رہ کر، جب وہ سامنے آتے ہیں تو سوال اٹھتے ہیں، 62ون ایف لگنے کے بعد نواز شریف کسی سرکاری عہدہ کے اہل نہیں ہیں، وہی قانون تحریک انصاف اور سب پر لاگو ہوتاہے۔

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ملتان میں تحریک انصاف کے امیدوار کی کامیابی عوام کا تحریک انصاف پر اعتماد کا اظہار ہے، اس الیکشن کا نتیجہ روایتی سیاست کی شکست ہے، اپوزیشن جماعتوں کے متفقہ امیدوار کو ہم نے شکست دی، عام انتخابات میں اس حلقے میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی ایک دوسرے کے حلیف تھے جو اس ضمنی الیکشن میں اکٹھے ہو گئے جو ان کا سیاسی دیوالیہ پن ہے، (ن) لیگ اور پیپلز پارٹی نے سیاسی دیوالیہ پن کا مظاہرہ کیا ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ  اپوزیشن کی تمام کوشش کے باوجود ان کا امیدوار ہار گیا، اس الیکشن میں (ن)لیگ اور پیپلز پارٹی کے بیانیے کو شکست ہوئی ہے، پنجاب میں سیاست (ن) لیگ اور پی ٹی آئی کے درمیان ہو رہی ہے، پیپلز پارٹی کہیں نظر نہیں آرہی، یوسف رضا گیلانی کے بچے سیاست میں رہنے کیلئے نیا فیصلہ کرنے والے ہیں اور (ن) لیگ کی طرف جا رہے ہیں، ہم عمران خان کی قیادت میں عوامی خدمت کا سلسل جاری رکھیں گے، عوام نے (ن) لیگ اور پیپلز پارٹی کے الحاق کو مسترد کر دیا ہے، الحاق کے بعد پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ کی مقبولیت میں کمی آئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جہانگیر ترین کی بے پناہ خدمات ہیں اور ان میں صلاحیت ہے، ان کو سوچنا ہو گا کہ جب وہ سرکاری اجلاسوں میں شرکت کرتے ہیں تو (ن) لیگ کو اعتراض کا موقع ملتا ہے، 62ون ایف لگنے کے بعد نواز شریف کسی سرکاری عہد کے اہل نہیں ہیں، وہی قانون تحریک انصاف اور سب پر لاگو ہوتاہے، جہانگیر ترین اپنی تجاویز ضرور دیں لیکن پس پردہ رہ کر، جب وہ سامنے آتے ہیں تو سوال اٹھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا نام تبدیل کرنے کا فیصلہ سیاسی طور پر درست نہیں ہو گا، عملہ نام کا نہیں کام کا ہے، کام کرکے دکھانا ہے اور غریب کے مسائل کا حل کرنا ہے،بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا دائرہ کار محدود ہے اور احساس پروگرام کا دائرہ کار وسیع ہے، میں پارٹی قیادت کے سامنے اپنا نقطہ نظر رکھوں گا۔


ای پیپر