ٹھیکیداری نظام اور کرپشن
01 اپریل 2018

کر پشن کر نے کا طر یقہء کار کبھی بھی اتنا سید ھا اور سا د ہ نہیں ہو تا کہ عا م شہری اس کو سمجھ سکے۔ کرپٹ ما فیا اسے سا ئینسی بنیا دو ں پر حد در جہ فو ل پر و ف بنا نے کی کو شش کر تا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ متو سط در جے سے تعلق رکھنے وا لے بہت سے ا فرا د جب دیکھتے د یکھتے ارب پتی بن گئے تو عو ا م اپنی عقلِ عا مہ کی بنیا د پر یہ تو جا ن گئے کہ اتنی زیا دہ دو لت کا حصو ل صر ف محنت کی بناء پر ممکن نہیں ہو سکتا مگر وہ اس طر یقہ ء کا ر کو نہ جا ن سکے جس کے ذریعے ا تنی دو لت کے انبا ر لگا ئے گئے۔ اور پھر بیچارے عو ا م پہ کیا موقو ف، عدا لتیں تک کر پشن کو ثا بت کر نے میں بے بس نظر آ تی ہیں۔ وجہ؟ وجہ ہے کر پشن کر نے کا فو ل پرو ف انتظا م۔ مثا ل کے طو ر پر �آ پ دیکھ لیں کہ پورا پا کستا ن جا نتا ہے کہ آ صف علی زردا ری کی لا متنا ئیی دو لت کے پیچھے صرف اور صر ف کر پشن کا ہا تھ ہے۔ لیکن چو نکہ فو ل پرو ف ا نداز اختیا ر کیا گیا ، لہذا وہ الزا ما ت سے بر ی ا لذ مہ ہو کر جمہوریت کے سب سے بڑے علمبردار کی حیثیت سے گھو م پھر رہے ہیں۔ در ا صل فو ل پر و ف طر یقہء کا ر کا اہم حصہ ٹھیکہ دار ری نظام پہ مشتمل ہے۔ تا ہم خو ش آ ئند امر یہ ہے کہ چیف جسٹس آ ف سپر یم کو ر ٹ جنا ب نثا ر ثا قب نے اس ٹھیکیدا ری نظا م کی نشا ن دہی کر لی ہے۔ چنا نچہ انہو ں نے وا شگا ف الفا ظ میں حکو مت کو تنبیہ کر دی کہ ملک کو ایسٹ انڈیا کنمپنی کی طر ح ٹھیکید ا رو ں کے حو ا لے نہ کر یں۔ تفصیل کچھ یو ں ہے کہ چیف جسٹس جنا ب نثا ر ثا قب کی سر بر ا ہی میں سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں دو رکنی بینچ نے پنجاب کی 56 کمپنیوں میں بھاری معاوضوں اور مراعات پر بھرتیوں کے خلاف از خود نوٹس کی سماعت کی۔ اس موقع پر چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ سب کچھ نجی سیکٹر کے حوالے کردیا گیا ہے، کام نہیں کرسکتے تو حکومت چھوڑ دیں، ملک کو ایسٹ انڈیا کمپنی کی طرح ٹھیکداروں کے حو ا لے نہ کریں۔ ٹھیکداری نظام چلنے دیں گے نہ کسی کو بندر بانٹ کی اجازت دی جائے گی۔ چیف جسٹس نے چیف سیکرٹری سے استفسار کیا کہ پنجاب حکومت نے کتنی کمپنیاں بنائی ہیں؟ چیف سیکرٹری نے بتایا 50 سے زائد کمپنیاں تشکیل دی ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا: نجی کمپنیاں بنا کر محکموں کو مفلوج کردیا گیا، حکومت سے کام نہیں ہوتا تو بتادے، عوام کے ٹیکس کا پیسہ ضائع نہیں ہونے دیں گے۔
غو ر کیا جا ئے تو وا ضح ہو تا ہے کہ یہ قد م ا ٹھا نے کی ضر و ر ت عر صہ دراز سے چلی آ رہی تھی ۔ بہر حا ل د یر آ ید در ست �آید کے مصداق چیف جسٹس کی جانب سے مختلف معاملات کا نوٹس لینا اور کئی کیسز کی سماعت کا حوصلہ افزا پہلو یہ ہے کہ مختلف شعبوں میں بہتری کے آثار پیدا ہونے کے امکانات بڑھ رہے ہیں۔ واقعی یہ بات قابل غور ہے کہ گورنمنٹ سیکٹر کے ہوتے ہوئے اگر نجی کمپنیاں بنائی گئیں تو اس کا سیدھا اور سادہ مطلب سرکاری اداروں کو مفلوج کرنے کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے۔ اور ان اداروں میں بھاری تنخواہوں پر من پسند افراد کو تعینات کرنے کے عمل کو اقربا پروری کے علاوہ کیا نام دیا جاسکتاہے؟ پھر حکومتی سطح پر زیادہ تر ترقیاتی کام ٹھیکے پر کرائے جاتے ہیں اور یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ ٹھیکے پر کرائے گئے کاموں میں کہاں کہاں، کس کس کے حصے میں کسی ترقیاتی کام کے لیے مختص کی گئی رقوم کا کتنا حصہ آتا ہے۔ اس طریقے سے ترقیاتی کام کے لیے مختص رقوم کا آدھا بھی خرچ نہ ہوتا ہوگا۔ کچھ حکمران کھاجاتے ہیں، کچھ ٹھیکے دینے و ا لے بیو ر و کر یٹ اور ایک بڑا حصہ ٹھیکے دار۔ پھر یہ سوال بھی اپنی جگہ اہمیت کا حامل ہے کہ اگر سارے کام ٹھیکے پر ہی کرانے ہیں تو پھر سرکاری اداروں اور محکموں کی کیا ضرورت باقی رہ جاتی ہے؟ کوئی پل بنانا ہو، کسی ہسپتال میں نیا ونگ قائم کرنا ہو، ہسپتالوں کے لیے ادویات درکار ہوں یا سکولوں کے لیے کتابیں شائع کرانی ہوں، ٹھیکے دار تلاش کیے جاتے ہیں۔ یہ کوشش کہیں ہوتی نظر نہیں آئی کہ سرکاری اداروں کو فعال بنا کر یہ کام ان سے کرائے جائیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ جب کوئی قدرتی آفت، جیسے سیلاب، زلزلہ یا طوفان نازل ہو تو ہر ادارہ ہمیں مفلوج نظر آتا ہے اور کوئی بھی معاملہ بروقت ٹھیک نہیں کیا جاسکتا۔
حقیقت یہ ہے کہ چیف جسٹس صا حب کے اس مثبت اقد ا م سے پہلے و طنِ عزیز کے ان بنیا دی مسا ئل کی جا نب کبھی بھی سنجیدہ تو جہ نہیں دی گئی۔ ا ٹھا ئے جا نے وا لے ا قدا ما ت محض ا خبا ر ی بیا نا ت تک محد و د رہے۔ ا لبتہ اب چیف جسٹس صا حب کے عز م کے نتیجے میں بہتری کی توقع تو بڑھ رہی ہے، لیکن کیا ہی اچھا ہو کہ اس کے ساتھ ساتھ اداروں کی اصلاح کا کام بھی کیا جائے اور اس حوالے سے حکومت کی رہنمائی کی جائے کہ وہ اپنی رٹ کیسے قائم کرسکتی ہے اور یہ کام وقتی ضرورت کے تحت نہیں بلکہ طویل مدتی تقاضوں کو پیش نظر رکھ کر کیا جائے۔ اس طرح اصلاح کا عمل تیز تر ہوجائے گا اور مسائل کے حل کی رفتار بھی بڑھ جائے گی۔ کچھ توجہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو بھی اپنے معاملات پر دینے کی ضرورت ہے۔ حکمرانوں کو اپنے فرائض پورے کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ ضروری نہیں کہ ہر معاملے میں عدلیہ ہی مداخلت کرے اور انہیں بتائے کہ اصلاح احوال کیسے ممکن ہوسکتی ہے۔ ایک مثال یوں پیش کی جاسکتی ہے کہ سٹریٹیجک مینجمنٹ اینڈ انٹرنل رسپانس یونٹ میں ریٹائرڈ افسروں کی بھاری مراعات پر بھرتیوں کے خلاف کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے سیکرٹری صحت سے استفسار کیا کہ محکمہ صحت کے ہوتے اس یونٹ کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ کیا محکمہ صحت فیل ہوچکا ؟ تو کیا ضروری تھا کہ اس کی نشاندہی چیف جسٹس ہی کرتے؟ کسی اور کے ذہن میں یہ ایشوز، یہ سوالات کیوں نہیں ابھرے؟ پھر کوئی ایک معاملہ ہو تو شاید چل جائے، لیکن یہاں صورتحال یہ ہے کہ جس محکمے کے معاملات کو تھوڑا کھنگالا جائے اسی میں کرپشن ، فرائض سے غفلت اور مالی بدعما لیا ں سامنے آتی ہیں۔ یہ اہم سوال ہے کہ ایسا کیوں ہے اور ان ساری باتوں کا حکمرانوں کو ادراک کیوں نہیں ہوتا؟ اصل مسئلہ یہ ہے کہ جب انتخابات کا وقت آتا ہے تو الیکشن میں حصہ لینے کی خواہش مند سیاسی جماعتیں اور سیاست دان عوام کے مسائل حل کرنے کے بلند بانگ دعوے اور وعدے کرتے ہیں، اصلاح احوال اور ترقی کی رفتار بڑھانے کے حوالے سے بڑی اولوالعزمی کا اظہار کرتے ہیں، لیکن برسراقتدار آنے کے بعد یہ سب کچھ بھول جاتے ہیں اور اقربا پروری شروع کردیتے ہیں۔ یہ بھول جاتے ہیں کہ انہوں نے عوام سے کچھ وعدے کر رکھے ہیں، جن کے پورا ہونے کے وہ منتظر ہیں۔ جو کام عدلیہ کر رہی ہے، کیا وہی حکومتیں نہیں کرسکتیں اور جو خر ا بیا ں چیف جسٹس کو انتظامی ڈھانچے میں نظر آتی ہیں، کیا صوبے یا وفاق میں قائم حکومتوں کے سربراہوں کو نظر نہیں آتیں؟ حالات اور وقت کا تقاضا ہے کہ سرکاری محکموں میں بہتری لانے کے لیے اقدامات صو با ئی اور وفا قی حکو متیں اپنے ذ مے لیں کیے جائیں کیو نکہ اب عدلیہ اس پہ خاموش بیٹھنے وا لی نہیں۔


ای پیپر