بلوچستان کی سیاست میں نیا موڑ

01 اپریل 2018

خالد بھٹی


لاہور، کراچی اور اسلام آباد میں واقع نیوز سٹوڈیوز میں بلوچستان کا ذکر زیادہ تر منفی واقعات کے حوالے سے ہی زیربحث آتا ہے۔ دہشت گردی کے واقعات اور بم دھماکوں کو میڈیا میں زیادہ کوریج ملتی ہے۔ جبکہ بلوچستان کی سیاسی صورت حال اور سماجی ومعاشی حالات پر بہت کم بات ہوتی ہے۔ مگر گزشتہ چند ماہ سے صورت حال یکسر تبدیل ہوئی ہے۔ سردار ثناء اللہ زہری کے خلاف عدم اعتماد اور مسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی پارٹی میں جنم لینے والی بغاوت کے بعد سے بلوچستان مسلسل خبروں کی زینت بنا ہوا ہے۔ سینیٹ انتخابات میں بھی بلوچستان کے سیاستدانوں نے اہم کردار ادا کیا۔ بلوچستان کے جواں سال وزیراعلیٰ میرعبدالقدوس بزنجو سینیٹ کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے انتخابات کے دوران بھی بہت متحرک نظرآئے اور مسلسل خبروں کی زینت بنے رہے۔
بلوچستان سے جنم لینے والی نئی سیاسی جماعت ’’ بلوچستان عوامی پارٹی‘‘ ایک بار پھر میڈیا اور سیاسی تجزیہ نکاروں کی توجہ حاصل کررہی ہے۔ بلوچستان میں صوبائی حکومت کی تبدیلی اور مسلم لیگ میں ہونے والی بغاوت کے بعد اس قسم کی سیاسی جماعت کے سامنے آنے کی توقع کی جارہی تھی۔ اس لیے جب بلوچستان عوامی پارٹی کے قیام کا اعلان ہوا تو اس پر حیرت نہیں ہوئی۔ اس جماعت کے قیام کے بعد بلوچستان کی انتخابی صورت حال بہت حدتک واضح ہوگئی ہے۔ اب ایک طرف وہ قبائلی سردار ، عمائدین، امیر افراد اور بااثر سیاستدان ہوں گے جوکہ روایتی طورپر مقتدرقوتوں کے ساتھ مل کر سیاست کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ وہ مقتدر قوتوں کے رموزواسرار کو بہت بہتر سمجھتے ہیں اور باغیانہ روش اختیار کرنے سے پرہیز کرتے ہیں۔ ان کا بڑا حصہ اب بلوچستان عوامی پارٹی میں جمع ہوگا۔ یہ جماعت خالصتاً پارلیمانی سیاست کے لیے وجود میں آئی ہے۔ اس لیے اس میں وہی سیاست دان نمایاں ہوں گے جو بااثر سمجھے جاتے ہیں اور مقتدرقوتوں کی حمایت اور آشیرباد سے انتخاب جیتنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس پارٹی کے وجود میں آتے ہی عملی طورپر بلوچستان سے مسلم لیگ (ن) اور مسلم لیگ (ق) کا خاتمہ ہوگیا ہے۔ مسلم لیگ (ق) 2002ء سے لے کر 2008ء تک بلوچستان کی سب سے بڑی انتخابی قوت رہی۔ 2008ء میں پیپلزپارٹی نے مسلم لیگ (ق) کے منحرفین کے ساتھ مل کر ہی مخلوط حکومت بنائی تھی جبکہ 2013ء کے انتخابات کے بعد قائم ہونے والی مخلوط حکومت میں بھی مسلم لیگ (ق) شامل تھی۔
ہمارے ملک میں ایسی جماعتوں کی پوری تاریخ ہے جوکہ مخصوص مفادات اور سیاسی بندوبست کے تحت راتوں رات وجود میں آتی ہیں۔ ایک یادوانتخابات میں بڑی انتخابی قوت کے طورپر ابھرتی ہیں مگر جیسے ہی سیاسی مقاصد اور مفادات بدلتے ہیں تو ایسی جماعتیں محض الیکشن کمیشن کی فائلوں اور تاریخ کے کوڑے دان میں ہی باقی رہتی ہیں۔ ایسی جماعتوں کے رہنما اپنی مقبولیت اور عوامی خدمات کی بجائے سرکاری اور آئینی عہدوں کی بدولت پہچانے جاتے ہیں ۔ وہ جیسے ہی ان عہدوں سے ہٹتے ہیں تو پھر منظر سے غائب ہوجاتے ہیں۔ بلوچستان کی سیاست میں دوسری طرف مسلم لیگ (ن) کی اتحادی جماعتیں اور دیگر قوم پرست قوتیں موجود ہوں گی۔ مسلم لیگ (ن) جس طرح اچانک بلوچستان کے سیاسی منظر نامے پر نمودار ہوئی تھی وہ اسی طرح غائب ہوگئی ہے۔ اس صورت حال میں نوازشریف کی تمام تر امیدوں کا محور محموداچکزئی اور حاصل بزنجو ہوں گے۔ مسلم لیگ (ن) بلوچستان میں تاش کے پتوں کی طرح بکھر گئی ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے پاس موجودہ اسمبلی میں سب سے زیادہ 22ارکان صوبائی اسمبلی تھے۔ جن میں سے اب محض دو یا تین ارکان رہ گئے ہیں۔ جبکہ غالب اکثریت اب نئی جماعت کا حصہ ہوگی۔ اس طرح مسلم لیگ (ق) کے تمام پانچوں ارکان بھی اس نئی جماعت میں شامل ہیں جبکہ نیشنل پارٹی اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے منحرف ارکان بھی اس نئی جماعت میں شامل ہوں گے۔
2018ء کے عام انتخابات میں پشتون علاقوں میں اس نئی جماعت کا مقابلہ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام (ف) سے ہوگا۔ کہیں کہیں تحریک انصاف، پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) بھی نظر آئیں گی مگر اصل مقابلہ انہی تین جماعتوں کے درمیان ہوگا۔ جبکہ بلوچ اکثریت کے علاقوں میں بلوچ قوم پرست بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) نیشنل پارٹی، جمعیت علمائے اسلام (ف) اور بااثرامیدواروں کے درمیان مقابلہ متوقع ہے۔
اس نئی جماعت کے قیام کے بعد بلوچستان میں تینوں بڑی قومی سیاسی جماعتوں مسلم لیگ (ن) پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف کے لیے گنجائش بہت کم رہ گئی ہے۔ یہ تو ممکن ہے کہ نئی سیاسی جماعت تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی کے ساتھ چند نشستوں پر اتحاد یا سیٹ ایڈجسٹمنٹ کرلے جس کے نتیجے میں چند ایک اسمبلی نشستیں ان دونوں سیاسی جماعتوں کو بھی مل جائیں۔ مگر پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف کے بڑی سیاسی قوت کے طورپر ابھرنے کے امکانات فی الحال تو معدوم ہوگئے ہیں۔ اگر یہ نئی سیاسی جماعت نہ بنتی تو امکان یہی تھا کہ صوبائی حکومتی اتحاد تقسیم ہوکر دونوں جماعتوں میں شمولیت اختیار کرتا اور یوں دونوں سیاسی جماعتوں کو اہم حیثیت حاصل ہوجاتی ۔ مگر اب یہ امکانات خاصی حدتک کم ہوگئے ہیں۔ اس بات کے امکانات بڑھ گئے ہیں کہ بلوچستان عوامی پارٹی ایک بڑی انتخابی قوت کے طورپر ابھرے اور اس کا اگلی صوبائی حکومت کے قیام میں نمایاں ترین کردار ہوگا۔ یہ نئی جماعت شاید فیصلہ کن اکثریت حاصل نہ کرسکے اور دیگرقوم پرست جماعتوں اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے ساتھ مل کر حکومت بنائے۔ پاکستان کی سیاست اور انتخابی عمل میں منشور، نظریات اور پروگرام کی کس قدر اہمیت ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس نئی جماعت کے قیام کا اعلان تو ہوگیا ہے مگر ابھی تک اس کا پروگرام، منشور اور آئین نہیں لکھا گیا۔ اس کی بنیادی وجہ تو یہ ہے کہ طاقتور اور بااثر امیدوار کسی خاص نظریئے، منشور اور پروگرام پر انتخاب نہیں لڑتے بلکہ وہ اپنی ذاتی حیثیت، مقامی گروپ اور قبائلی اثرورسوخ کی بنیاد پر انتخاب لڑتے ہیں۔ اسی وجہ سے انہیں بار بار جماعتیں بدلنے میں کوئی دقت نہیں ہوتی۔ بلوچستان عوامی پارٹی جس طریقے سے وجود میں آئی ہے وہ دراصل ہمارے ہاں رائج اشرافیائی سیاست اور جمہوریت کا واضح عکس ہے۔ یہ رجحان صرف بلوچستان تک محدود نہیں ہے بلکہ ہماری قومی سیاست کے غالب کلچر ، رجحان اور سوچ کا چھوٹا سا اظہار ہے۔
انتخابی اکھاڑے کے بڑے پہلوانوں کی نمایاں تعداد ہر انتخابات سے پہلے سیاسی جماعتیں تبدیل کرتی ہے۔ وہ ہربار عوام کی تکالیف دکھوں اور اذیتوں کو کم کرنے اور ان کی خواہشات اور امنگوں کی تکمیل کے لیے یہ تکلیف دہ اور مشکل قدم اٹھاتے ہیں ۔ عوام کے دکھ اور درد ان سے دیکھے نہیں جاتے اس لیے وہ مسلسل اقتدار کا حصہ رہتے ہیں۔ یہ ہردفعہ ایک نئے انتخابی نشان کے ساتھ میدان میں اترتے ہیں۔ عوام کے دلوں میں بہتری اور مسائل کے حل کی امیدیں جگاتے ہیں مگر ان کی تمام تر کوششیں اس وقت ناکام ہوجاتی ہیں جب سیاسی جماعتیں اور ان کی حکومتیں عوام کے حقیقی ہمدردوں کی بات نہیں مانتیں اور ان کے مسائل پر توجہ نہیں دیتیں۔
یہ نئی جماعت بھی عوام کی ہمدردی اور بھلائی میں بنائی گئی ہے اور ان لوگوں نے بنائی ہے جنہوں نے مسلسل سالوں اقتدار میں گزارے ہیں۔ اس نئی جماعت میں شامل کئی رہنما 2012ء سے مسلسل حکومتوں کا حصہ ہیں مگر عوام کے مسائل جوں کے توں ہیں۔ سب سے مزے کی بات یہ ہے کہ نئی جماعت کے رہنما حکومت کا حصہ ہوتے ہوئے بھی اس پر تنقید کرتے ہیں۔ بلوچستان کی نئی پارٹی بھی عوام کے پرزور اصرار اور فرمائش پر بنائی گئی ہے۔ اس دفعہ تو عوام کی تقدیر اور حالت بدلا ہی چاہتی ہے۔

مزیدخبریں