ملکی معیشت اور حکومت کے آرائشی اقدامات
01 اپریل 2018

گزشتہ ایک سال سے سٹیٹ بنک آف پاکستان کی جانب سے پاکستانی معاشی صورت حال کے بارے جو سہ ماہی رپورٹس جاری کی گئی ہیں، انہیں مجموعی طور پر خوش کن قرار نہیں دیا جاسکتا۔رپورٹس کے مختلف مندرجات میں صورت حال کی جو عکاسی حقائق اور اعداد و شمار کی روشنی میں کی گئی ہے ، ان کو پڑھتے ہوئے ہر محب وطن شہری کا پریشاں اور بے چین ہونا ایک فطری امر ہے۔ رپورٹس سے مترشح ہوتا ہے کہ: ہر قسم کے معاشی رسک میں اضافہ ہورہا ہے،مالیاتی کارکردگی کے اکثر اشاریوں میں گراوٹ جاری ہے، سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے ملکی اقتصادی ماحول پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں، ان کی وجہ سے معیشت کو درپیش خطرات بڑھ رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ حالیہ مہینوں میں ادائیگیوں میں عدم توازن بڑھ رہا ہے جس کے باعث ملکی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہونے کے خدشات بڑھ رہے ہیں، بالخصوص آئندہ مہینوں میں ملک میں طلب کا دباؤ بڑھنے اور انٹر نیشنل کریڈٹ مارکیتس میں مسائل زیادہ سنگین ہونے کی صورت میں یہ خدشات زیادہ ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر مالیاتی اظہاریوں میں حالیہ تبدیلیوں کو درست کرنے کیلئے فوری اقدامات نہ کئے گئے تو معیشت کی چار سال تک معیشت کی قدرے بہتر کار کردگی کے باوجود مجموعی معیشت کی صورتحال میں پیچیدگیوں کا خطرہ روز افزوں ہے۔ مالیاتی عدم توازن کے سبب مرکزی بینک کے ذریعے حکومتی قرضوں کے حصول میں نمایاں اضافہ ہونا کوئی حیران کن بات نہیں البتہ عام آدمی کے لیے پریشان کن ضرور ہے۔
سیاسی عدم استحکام کی پہلی ضرب ہمیشہ قومی معیشت کو نڈھال اور مضمحل کرنے کا باعث بنتی ہے۔ معاشی استحکام کے لئے ایک اہم ترین عنصر کسی ملک میں سیاسی استحکام کا تسلسل بھی ہوا کرتا ہے۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ وطن عزیز تاریخ کے ایک نازک، حساس اور اہم دور سے گزر رہا ہے۔حساس اور اہم ادوار کی نزاکتوں او ر مقتضیات سے صرف نظر کرنے والی اقوام استحکام اور سلامتی کی منازل سے کوسوں پیچھے رہ جایا کرتی ہیں۔کسی بھی ملک و قوم کی ترقی کیلئے معاشی و سیاسی استحکام کا ہونا ازبس ضروری ہوتا ہے۔ معاشی و سیاسی استحکام میں چولی دامن کا ساتھ ہے۔ ایک ترقی پذیر ملک کو ترقی یافتہ ملک بنانے کا واحد راستہ فول پروف معاشی پالیسیوں کو اپنانا ہے۔یہ ایک حقیقت ہے کہ معیشت کی ترقی و استحکام کیلئے کسی بھی ملک میں داخلی سطح پر امن و امان کی صورتحال کابہتر ہونا ناگزیرہے۔ نظریات اور اصولوں کی بنیاد پر سیاست کرنے والی محب وطن سیاسی قیادتیں اور جماعتیں ملکی معیشت کے استحکام کیلئے امن و امان کی صور ت حال کو عدم توازن کا شکار ہونے سے بچانے کیلئے کبھی کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتیں۔۔ گزشتہ 70 برسوں میں وطن عزیز جن المیوں اور سانحات سے دوچار ہوا ہے، ان کے پیش نظر صائب الرائے حلقے یہ توقع رکھتے ہیں آئندہ رااحتیاط کے مصداق ہماری قومی ، سیاسی جماعتیں اور قیادتیں اپنے فرائض حب الوطنی، فرض شناسی اور دیانتداری سے ادا کریں گی۔ اپوزیشن سے تعلق رکھنے والی سیاسی جماعتیں دنیا بھر میں برسراقتدار جماعت کی پالیسیوں کو ہدف تنقید بناتے وقت صرف اس ایک نکتے کو ملحوظ خاطر رکھتی ہیں کہ آیا برسراقتدار جماعت کی پالیسیاں ملک کے اصولی موقفات اور معیشتی استحکام کے ضامن لوائح عمل سے متصادم تو نہیں؟ برسراقتدار جماعت کی پالیسیوں سے اختلاف رکھنا اپوزیشن کا جمہوری اورآئینی حق ہوا کرتا ہے۔لیکن ترقی یافتہ جمہوری مملکتوں اور معاشروں میں ’’اختلاف برائے اختلاف‘‘ اور ’’تنقید برائے تنقید‘‘ کی روش کو کسی بھی طور مثبت جمہوری اور مفید سیاسی روش تصور نہیں کیا جاتا۔ کسی ایک ملک میں موجود سیاسی جماعتوں کے اہداف مختلف ہو سکتے ہیں لیکن ان کا نصب العین ایک ہی ہونا چاہئے کہ وہ ایسے سیاسی اعمال و افعال اور افکار و اقدار کو ترویج دیں جن کے باعث ملک کی معاشی ترقی، سلامتی اور استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔
یہ ایک کڑوا سچ ہے کہ ہمارے مالیاتی امور کے ذمہ داران کا طریق واردات یہ ہے کہ وہ ہمیشہ مالیاتی خساروں کا ملبہ قومی یا بین الاقوامی سطح پر رونما ہونیوالے کسی ایک بڑے سانحے کو بنا کر اپنی کوتاہیوں، ناقص منصوبہ بندیوں اور کوتاہ بینیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ اکثر اس کوشش میں ناکام رہتے ہیں اس لئے کہ سٹیلائٹ میڈیا کے اس عہد میں حقائق کے چہرے کو خوبصورت الفاظ اور دلکش اعدادو شمار کے دبیز نقاب کے پیچھے اور نیچے چھپایا نہیں جا سکتا۔ پاکستان کی اقتصادی پالیسیاں گزشتہ کئی برسوں سے معیشت کے کئی شعبوں میں خسارے کی نشاندہی کرتی ہیں۔
عام آدمی دو وقت کی روٹی کے حصول کیلئے کیا کیا پاپڑ بیلتا ہے،سچ تو یہ ہے کہ اس ملک کے مقتدر طبقات کو اس کا حقیقی احساس ہوتا تو وہ پریزیڈنٹ ہاؤس وزیر اعظم ہاؤس، چیف منسٹر ہاؤسز گورنر ہاؤسز ،وفاقی پارلیمانی لاجز ، منسٹرز کالونیز،ایم پی ایز ہاسٹل اوراعلیٰ وفاقی و صوبائی افسر شاہی کے دفاتراور رہائش گاہوں کی اندرونی آرائش و زیبائش کی آڑ میں قومی خزانے سے سالانہ اربوں کی رقم کی منظوری نہ دیتے۔ اس قسم کے جملہ اخراجات قومی خزانہ کے ضیاع کی ذیل میں آتے ہیں۔ ترقی یافتہ جمہوری مملکتوں کے عوام دوست ارباب حکومت اس قسم کی فضول خرچیوں کی اجازت دینے کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔ یہ بات کسی شک و شبہ کے بغیر کہی جا سکتی ہے کہ 1985سے تا دمِ تحریرصرف اس ایک مد میں سینکڑوں ارب روپے کا عوامی و قومی سرمایہ انتہائی سفاکی اور بیدردی سے اُڑایا جا چکا ۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اگر یہی خطیر سرمایہ غریب، نادار اور بیروزگار نوجوانوں کو ایک لاکھ روپیہ فی کس کے حساب سے 2فیصد مارک اپ پر دیا جاتا تو اب تک20 لاکھ سے زائد نوجوان معاشی خود کفالت اور اقتصادی خود انحصاری کی منزلِ مراد حاصل کرنے میں کامیاب ہوچکے ہوتے اور سرکاری خزانے میں سالانہ2 فیصد کے حساب سے اربوں کا منافع بھی جمع ہوتارہتا نیز یہ کہ اصل رقم بھی محفوظ رہتی۔ ریکارڈ بتاتا ہے کہ قومی وکمرشل بینکوں کے چھوٹے قرض یافتگان سے اصل زر اور منافع کی وصولی کا ریکارڈ انتہائی شاندار ہے۔ اس کے برعکس قومی و کمرشل بینکوں سے کروڑوں اور اربوں کے قرضے حاصل کرنے والے بڑے اور بارسوخ افراد اور خاندانوں نے کھربوں کی رقم شیر مادر سمجھ کر ہضم کر لی۔ قومی خزانے کا یہ بے دریغ ضیاع پاکستان میں غربت کی شرح میں اضافہ کرنے کا موجب بنا۔ساؤتھ ایشےئن کمیشن کی طرف سے ایشیائی ممالک کے بارے شائع ہونے والی رپورٹس میں بار بار بتایا جاتا رہا ہے کہ ’’پاکستان میں 1990کے بعد سے غربت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جبکہ بھارت، بنگلہ دیش، نیپال اور سری لنکا میں غربت کی شرح میں کمی آئی۔ رپورٹس میں پاکستان کے بارے مندرج مبنی بر حقیقت ریمارکس عوام کے دلوں میں برسراقتدار حضرات اور جماعتوں کے لیے نفرت کے جذبات پیدا کرتے ہیں۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ زرمبادلہ کے ذخائر میں لائق رشک اضافے کے دعوے کرنے والے حکمرانوں کے دور میں زرمبادلہ کے ذخائر میں افسوسناک کمی کیوں واقع ہوئی۔ آئی ایم ایف سے لیے جانے والے قرضے کن رفاہی اور فلاحی منصوبوں کی تکمیل پر خرچ کیے گئے۔ نیزساڑھے چار سال تک اسحق ڈار کی قیادت میں کام کرنے والے وطن عزیز کے اقتصادی مینیجرز نے غربت کی شرح میں کمی کیلئے کونسے نتائج خیز اقدامات کئے ؟ اسحق ڈار ملکی خزانے کو کنگال کر نے کے بعد نام نہاد علاج کے بہانے بیرون ملک عدالتی مفرور کی حیثیت سے پناہ گزین ہیں۔ کیا موجودہ منتخب جمہوری حکمرانوں کے پاس اس عوامی سوال کا جواب موجود ہے کہ انہوں نے اس ملک کے زیریں محروم طبقات کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کیلئے کونسی عوام دوست پالیسیاں تشکیل دیں؟ یہ ایک اوپن سیکرٹ ہے کہ موجودہ عہد حکومت میں پاکستانی قومی معیشت کے بنیادی خدوخال دسمبر جون 2013ء سے اگست 2018ء تک براہِ راست وزیر خزانہ اسحق ڈار اپنے فنکارانہ ہاتھوں سے ’’اُبھارتے ‘‘ اور ’’سنوارتے‘‘ رہے ۔ وہ محض طلاقتِ لسانی کے بل بوتے پر عوام اور میڈیا کو یہ باور کرواتے رہے کہ اُنہوں نے پاکستانی داخلی معیشت کو اندھے کنویں کی پاتال سے نکال کر ایورسٹ کی چوٹیوں تک پہنچا دیا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ پاکستانی قومی معیشت اورداخلی اقتصادی صورت حال جوں کی توں ہے۔ عام آدمی سوچتا ہے کہ کاش نواز شریف اور اس کے سمدھی وزیر خزانہ نے ملک کی معاشی ترقی اور عام آدمی کی غربت دور کرنے کے لیے نتائج خیز اقدامات کیے ہوتے۔ کاش ن لیگ کی حکومت نمائشی اور آرائشی اقدامات کے بجائے محروم اور غریب عوام کے معیار زندگی کو بلند کرنے والی عوام دوست اور غریب پرور اقتصادی پالیسیاں متعارف کراتی!۔۔۔ اے کاش!!۔۔۔ مفتاح اسماعیل بتائیں کہ وہ دن کب آئے گا، جب پاکستانی معیشت آئی ایم ایف کے بھری بھر کم سودی قرضوں کے بغیر اپنے پیروں پر کھڑی ہوگی۔


ای پیپر