جنگ اور امن کے درمیان
01 اپریل 2018 2018-04-01

امریکی جریدے کی حالیہ رپورٹ نے سارا بھانڈا پھوڑ دیا۔
’’فارن پالیسی‘‘ میگزین کی تازہ اشاعت میں مضمون نگار نے طویل آرٹیکل میں امریکی صدر ٹرمپ اور اس کے نئے مشیروں کی سوچ،پس پردہ صلاح مشوروں سے آگاہی کا دعویٰ کرتے ہوئے کچھ انکشافات کیے ہیں۔ ویسے تو آرٹیکل کا عنوان ہی بتانے کیلئے کافی ہے کہ بپھرا ہوا ٹرمپ پاکستان کے متعلق کیسی سوچ رکھتا ہے۔ عنوان ہے Is Trump Ready to dump Pakistan۔اگر چہ پاکستان کیلئے امریکی پابندیاں کوئی نئی بات نہیں۔ 70 سالوں میں پابندیوں کے کئی ادوار آئے۔لیکن فارن پالیسی میگزین کا دعویٰ ہے کہ امریکی صدر کے مشیر ان کو سیاسی پابندیوں فوجی امداد کی مستقل بندش،نان نیٹو اتحادی کا درجہ ختم کرنے کا مشورہ دے چکے ہیں۔پاکستانی نجی کمپنیوں پر پابندی لگا کر امریکی حکام انتقامی رویے اور دباؤ کے ہتھکنڈے استعمال کرنے کا اشارہ پہلے ہی دے چکے ہیں۔ابھی دو روز پہلے امریکی قائم مقام معاون وزیر خارجہ ایلس ویلز اچانک ہنگامی دورہ پر اسلام آباد پہنچی۔سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ کے علاوہ مشیر قومی سلامتی ناصر جنجوعہ سے ملاقاتیں کیں۔اپنا مدعا بیان کیا اور چپ چاپ واپس چلی گئیں۔مدعا واضح ہے افغانستان۔ سرزمین افغانستان جہاں امریکہ سولہ سال سے سر پٹخ رہا ہے۔لیکن ابھی تک آگے بڑھنے کا راستہ نہیں مل سکا۔افغانستان کے محاذ پر تیز تر سرگرمیاں جاری ہیں۔پاکستان کے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی دورہ کابل کیلئے سامان باندھے تیار بیٹھے ہیں۔ہو سکتا ہے کہ ہفتہ رواں میں۔ عین اس وقت جب پاکستان کو مزید پابندیوں کے شکنجے میں پھنسانے کی کوششیں جاری ہیں۔تا شقند میں افغان امن کانفرنس کا انعقاد ہوا جس میں 23 متعلقہ فریقین نے شرکت کی۔ شرکاء میں پاکستان، روس، ایران کے وزرائے خارجہ افغانستان سمیت میزبان ممالک کے صدور نے شرکت کی۔جب کہ امریکہ نے دفتر خارجہ کے کسی کلرک لیول کے عہدیدار کو بھیج کر امن کوششوں کے متعلق اپنی عدم دلچسپی صاف ظاہر کر دی۔ لب لباب اس کانفرنس کا یہ تھا کہ روس،پاکستان،ایران تینوں ممالک نے یکساں موقف اپنایا۔تینوں کا مو قف تھا کہ غیر ملکی فوجیں افغانستان سے نکل جائیں۔طالبان سے مذاکرات کیے جائیں۔خطے کے تمام ممالک طالبان مذاکرات کی میز پر لانے کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔خطے کے متعلقہ ممالک افغانستان کا مسئلہ حل کرنے کیلئے ریجنل اپروچ اپنائیں۔ کیونکہ مسئلہ افغانستان کا حل واشنگٹن،نئی دہلی کی بجائے مقامی سطح پر ہی ممکن ہے۔تینوں ممالک نے متفقہ طور پر اعلان کیا کہ جنگ مسئلہ افغانستان کا حل نہیں۔اس کا نفرنس نے ثابت کر دیا کہ شورش زدہ افغانستان میں جلتی آگ سے متاثرہ تمام متعلقہ فریقین ایک پیج پر ہیں سوائے دو کے ایک امریکہ جو قابض ہے۔دوسرا اشرف غنی انتظامیہ جو کہ کٹھ پتلی کے کردار میں خوش اور مطمئن ہیں۔ امن کانفرنس کے کلیدی خطاب میں جناب اشرف غنی کا لب و لہجہ دھمکی آمیز اور جار حانہ تھا۔ وہ اپنے خطے میں طالبان کے خلاف کی گئی کارر وائیوں کا تزکرہ کر کے اپنا دل پشوری کرتے رہے۔حالانکہ ان کے خطاب سے چند منٹ روسی وزیر خارجہ جناب سر گئی اپنے خطاب میں انکشاف کر چکے تھے کہ افغانستان کی سر زمین کے اَسی فیصد علاقہ پر اب اشرف غنی انتظامیہ کا کنٹرول باقی نہیں۔اکثریتی علاقہ پر طالبان،کچھ علاقہ پر امریکی فوج،کچھ پر مقامی وار لارڈز، کچھ حصہ پر بعض امریکی حمایت یافتہ دہشت گرد تنظیموں کا قبضہ ہے۔گویا اشرف گنی انتظامیہ پر برسر اقتدار ہونے کی محض تہمت ہے۔ اب اس منظر نامے کو جرگہ اس خطہ میں تشکیل پا رہا ہے۔ اس کو ذہن میں رکھیں۔ اور پھر پاکستان کے متعلق امریکی پابندیوں کی دھمکیوں کو ذہن میں رکھیں۔تب کہیں جا کر حقیقی تجزیہ کیا جا سکے گا کہ اصل مسئلہ کیا ہے۔ بین الاقوامی رپورٹوں کا جائزہ لیا جائے تو ایسے واضح اشارے ملتے ہیں کہ امریکہ کیا چاہتا ہے۔اس کی پاکستان سے توقعات کیا ہیں۔امریکہ افغانستان کے طول و عرض میں ایک بڑی اور فیصلہ کن کاروائی کر کے طالبان کو کمزور تر پو زیشن میں لانا چاہتا ہے۔وہ چاہتا ہے کہ پاکستان اس کے ہمراہ اپنا بارڈر کراس کر ے اور طالبان مخالف کارروائیوں میں اس کی افواج کا ساتھ دے۔
امریکی حکومت نے افغانستان میں گزشتہ کچھ مہینوں سے معمول سے ہٹ کر جارحانہ کارروائیاں شروع کر رکھی ہیں اور اب موسم بہار کے آغاز پر وہ بڑی فیصلہ کن جنگ کیلئے تیار ہیں۔چند ماہ پہلے پکتیکا میں امریکی افواج نے اپنے اہل کاروں کو طالبان کے گھیرے سے نکالنے کیلئے وحشیانہ کاروائیاں کیں۔ صرف 23 روزہ آپریشن کے دوران امریکی فوج نے ساڑھے سات سو زمینی اور فضائی آپریشن کیے۔اس دوران کئی گاؤں ملیا میٹ کیے۔امریکی صدرٹرمپ کی جانب سے دی گئی نئی پالیسی کے بعد گزشتہ سال ماہ دسمبر تک 4 ماہ کے دورا ن اڑھائی ہزار سے زائد حملے کیے گئے۔ان حملوں میں ایک ہزار کے قریب فضائی حملے بھی شامل ہیں۔ان حملوں میں سینکڑوں بے گناہ افغان شہری شہید ہوئے۔ لیکن اشرف غنی نے چپ کا روزہ رکھا ہوا ہے۔ حال ہی میں افغانستان میں تعینات اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کے ادارے نے سالانہ رپورٹ کے کچھ منتخب اقتباسات جاری کیے جس کی تفصیلی رپورٹ ابھی جاری نہیں ہوئی۔تا ہم اس ابتدائی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس بدقسمت سر زمین پر انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزیاں کی جا رہی ہیں۔ ہیومن سمگلنگ منشیات کا دھندہ زوروں پر ہے۔کم سن بچوں کو چائلڈ سولجر کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ خواتین،عام شہری غیر محفوظ ہیں ان سب باتوں کے باوجود امریکہ افغانستان میں فیصلہ کن جنگ لرنے جا رہا ہے۔اس جنگ کے مقاصد کیا ہیں۔یہ کوئی نہیں جانتا۔امریکہ اس جنگ میں فتح کے بعد افغانستان چھوڑ کر چلا جائے گا یا نہیں۔اس سوال کا جواب بہت مشکل ہے۔قلمکار کے خیال میں امریکہ جانے کیلئے نہیں آیا۔اگر وہ اس آپریشن میں کامیاب نہ ہو اتو اس کے پاس مزید رکنے کا بہانہ ہو گا۔اگر جیت گیا تو؟ جیت کر وہ ایسا سیٹ اپ بنانے کی کوشش کرے گا جس میں بھارت کا بالا دست رول ہو گا۔ دکھاوے کی افغانستان حکومت ہو گی۔جس کے دفاع کاذمہ امریکہ لے گا۔
امریکہ اس حتمی جنگ کیلئے زور شورسے تیاریاں کر رہا ہے۔امریکی فوجی افسر جنرل جوزف ڈین فورڈ 19 مارچ کو اچانک کابل کے بگرام ائیر پورٹ پر اترے۔ان سے اپریل میں شروع کیے جانے والے آپریشن کی تفصیلات اور تیاریوں پر بریفنگ لی۔ اس موقع پر افغانستان میں تعینات مختلف علاقوں میں تعینات سیکٹر کمانڈرز بھی شامل تھے۔ان کی آمد سے کچھ عرصہ پہلے خصوصی طور پر آٹھ سو سپیشل ملٹری ایڈوازروں کو افغانستان تعینات کیا گیا۔یہ خصوصی مشیر گوریلا جنگ کا تجربہ رکھتے ہیں۔ اور اس سے قبل عراق، شام میں تعینات رہ چکے ہیں۔جنوری کے مہینے سے تین ہزار ٹروپس پر مشتمل گوریلا دستوں کی آمد بھی شروع ہو چکی ہے۔علاوہ ازیں امریکی فوج کے سربراہ نے ہدایت جاری کی ہے کہ افغانستان کی فضائیہ کی بھی تشکیل نو کی جائے کیونکہ افغان نیشنل فور س ڈیلیور کرنے میں ناکام رہی ہے۔ امریکی تیاریوں کے جواب میں طالبان بھی خاموش نہیں بیٹھے۔ملا حیبت اللہ نے بھی اپنے گوریلوں کو متحرک ہونے کی ہدایت کر دی ہے۔ افغانستان میں اصل لڑائی جنگ اور امن کے درمیان ہے۔ پاکستان، روس، چین، ایران اور وسطیٰ ایشائی ممالک امن کے نواہاں ہیں۔جبکہ امریکہ، طالبان کو کمزور ی کی حالت میں مذاکرات کی ٹیبل پر لانا چاہتا ہے۔طالبان مذاکرات کی ایسی کسی میز پر بیٹھنے کیلئے تیار نہیں۔جس پر امریکہ موجود ہو۔یہ کش مکش خطے میں کشیدگی اور پاکستان کیلئے نئے مسائل کو جنم دے گی۔


ای پیپر