آس اکیڈمی لاہورمیں!
01 اپریل 2018

میں نے کچھ عرصہ پہلے انٹر نیٹ پر یہ رپورٹ پڑھی تھی ، یہ رپورٹ امریکہ کے کسی ادارے کی طرف سے شائع کی گئی تھی اور اس رپورٹ میں پاکستانی سوسائٹی اور پاکستان کے دینی مدارس کا جائزہ لیا گیا تھا۔ رپورٹ کے مندرجات بڑے چشم کشا اور ہوش ربا تھے، یہ رپورٹ ان یہودی ایجنسیوں اور منصوبہ سازوں کی مشترکہ کاوش تھی جو پاکستانی معاشرے کو لبرل اور سیکولر بنانا چاہتے ہیں ۔
رپورٹ میں اس تشویش کا اظہار کیا گیا تھاکہ آخر کیا وجہ ہے کہ پاکستانی اداروں ، حکومت اور میڈیا کو اتنی فنڈنگ کے باجود یہاں مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو رہے ۔ تجزیہ کاروں نے لکھا اس کی وجہ پاکستان کے دینی مدارس ہیں ، انہوں نے لکھا ہم سارا سال میڈیا ، حکومت ،سول سوسائٹی اور این جی اوز کے ذریعے سوسائٹی میں لبرل افکار کو پروان چڑھاتے ہیں ، ہم انٹر نیٹ ،ٹی وی ، فلم اور ایف ایم ریڈیوز کے ذریعے فحاشی و عریانی کا پیغام پہنچاتے ہیں اور ہم پورا ہفتہ میڈیااور این جی اوز کے ذریعے ایک ذہن کو متاثر کرتے ہیں لیکن ہفتے بعد جب یہ ذہن جمعے کے لیے مسجد جاتا ہے تومسجد کے امام کی ایک تقریر سے ہماری ساری محنت ضائع ہو جاتی ہے اور اگلے دن ہمیں از سر نو محنت کرنی پڑتی ہے۔
یہ رپورٹ صرف رپورٹ نہیں بلکہ یہ پاکستان کے دینی مدارس کی مقبولیت، افادیت اوران کی کامیابی کا تمغہ ہے۔پاکستان کے دینی مدارس مذہب اور سماج کے درمیان پل کا کردار ادا کر رہے ہیں اور یہ وہ پل جس نے دنیا بھر کی سازشوں اور اپنوں کی منافقت کے باوجود پاکستانی سماج کو مذہب سے دور نہیں ہونے دیا۔ آپ دیکھ لیں پچھلی دو دہائیوں سے ساری دنیا ، دنیا کا سارا میڈیا اورپاکستان کے سارے لبرل مل کر مدارس کو مطعون کر نے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن مدارس کا فیض بڑھتا جا رہا ہے ۔ آپ دنیا گھوم لیں آپ کو پاکستان جیسا اسلامی معاشرہ ملے گا اور نہ ہی اتنے متدین مسلمان حتی کہ آپ دنیا کے کسی کونے میں بھی چلے جائیں آپ کو پاکستانی مدارس کا کوئی فاضل ضرور مل جائے گا اور وہ مقامی لوگوں کی اصلاح وفلاح کے لیے متحرک بھی دکھائی دے گا ۔
آج کل مدارس کا تعلیمی سال اختتام پر ہے اور مدارس میں ختم بخاری کی تقریبات چل رہی ہیں ، ختم بخاری کا موقعہ انتہائی بابرکت،دعاؤں کی مقبولیت، پر رونق اور کیف و سرور سے بھرپور ہوتا ہے ، طلباء سارا سال صحاح ستہ پڑھتے ہیں اور آخری دن بخاری شریف کی آخری حدیث کا درس ہوتا ہے، طلباء کی دستار بندی ہوتی ہے اور اس کے ساتھ ہی طلباء کا آٹھ سالہ تعلیمی سفرختم ہو جاتاہے ۔
پچھلے ہفتے مجھے لاہور میں ختم بخاری کی دو تین تقریبات میں شرکت کا موقعہ ملا ، ایک تقریب علامہ اقبال انٹر نیشنل ایئر پورٹ سے متصل الفیصل ٹاؤن میں البریرہ ایجوکیشنل ٹرسٹ کی تھی ، البریرہ ایجوکیشنل ٹرسٹ کے مدیرصوفی اکرم صاحب ہیں جو حضرت صوفی محمد سرور صاحب کے خلیفہ ہیں ، انہوں نے یہاں مختلف اور متنوع پروجیکٹ شروع کر رکھے ہیں ، حفظ،درس نظامی ، اسکول اور تاجر حضرات کے لیے بنیادی دینی تعلیم کا اہتمام کیا گیا ہے۔ یہی سب کورسز طالبات کے لیے بھی چل رہے ہیں ، محدود جگہ اور محددووسائل کے ساتھ یہ واقعی بہت بڑا کام کر رہے ہیں اور مستقبل میں اسے مزید پھیلانا چاہتے ہیں ۔ دوسری تقریب رائیونڈ رو ڈ پر واقع آس اکیڈمی کی تھی، آس اکیڈمی کی وسیع مسجد نمازیوں سے بھری ہوئی تھی،ہر طرف سفید لباس پہنے نورانی چہرے دکھائی دے رہے تھے،اسٹیج کے سامنے اور دائیں بائیں فارغ ہونے ولے طلباء بیٹھے تھے ، سفید لباس اور سفید پگڑیاں پہنے یہ طلباء ساری محفل کی رونق اور اس رات کے دلہا تھے۔ حضرت پیر ذوالفقاراحمد نقشبندی نے آخری حدیث پڑھائی اور اپنے مخصوص انداز میں دعا کروائی۔
آس اکیڈمی مدارس کی دنیامیں ا بھرتا ہوا نام ہے ، اس کے مدیر ڈاکٹر شاہد اویس نقشبندی صاحب ہیں ، یہ کمال شخصیت ہیں ، اللہ نے انہیں ہر اعتبار سے خوب نوازا ہے۔یہ میڈیکل ڈاکٹر تھے ، نوے کی دہائی میں پیر ذو الفقاراحمد نقشبندی کے حلقے میں داخل ہوئے اور ان کی زندگی بدل گئی ،دیگر مصروفیات ترک کیں اور درس نظامی میں داخلہ لے لیا ، جامعہ اشرفیہ سے درس نظامی مکمل کیا اور آٹھ سال پہلے آس اکیڈمی کی بنیاد رکھی۔یہ حقیقی معنوں میں ولی اللہ ہیں ، اخلاص، خشوع و خضوع اور عاجزی اللہ نے ان میں کوٹ کوٹ کر بھری ہے۔ للہ نے انہیں مومنانہ فراست بھی عطا کی ہے اور انتظامی صلاحیتوں سے بھی نوازا ہے ،یہ تصوف کے اسرار و رموز سے بھی واقف ہیں اور یہ ان لوگوں میں سے ہیں جنہیں دیکھ کر واقعی اللہ یاد آ جاتا ہے ۔ یہ اپنی زندگی، اپنا وقت،اپنی صلاحیتیں اور اپنا گھر بار سب خدمت دین کے لیے وقف کر چکے ہیں ، ڈیفنس میں گھر تھا اسے خانقاہ بنا دیا،اب یہاں بھی حفظ کی کلاسز ہوتی ہیں اور یہ خود گھر کے صرف ایک کمرے تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں ۔ سب سے اہم بات اللہ نے انہیں امت کا درد عطا کیا ہے اور یہ درد ان کے قول و فعل میں دکھائی دیتا ہے۔اب ان کی ساری توجہ آس اکیڈمی پر ہے ، آس ( اکیڈمی آف عریبک سائنسز) اکیڈمی رائیونڈ روڈ پر یونیورسٹیوں کے جھرمٹ میں قائم ایک مدرسہ ہے ، یہاں اس وقت مختلف کورسز چل رہے ہیں ،حفظ، درس نظامی، معہد، حفاظ عریبک ،حفاظ انگلش اورمیٹرک تک اسکول کی ریگولر کلاسزچل رہی ہیں ۔ تخصصات میں تخصص فی الفقہ، تخصص فی اللغۃ العربیہ، چائیز زبان کا کورس اور دیگر تخصصات چل رہے ہیں ۔ اللہ نے انہیں درد دل کے ساتھ وسائل بھی عطا کیئے ہیں اور اس کے ساتھ انہیں جو اساتذہ کی ٹیم ملی ہے وہ بھی شاندارہے ۔ طلباء کی تعلیم کے ساتھ تربیت اور تزکیہ پر بھی خصوصی توجہ دی جاتی ہے ، روزانہ ایک پریڈ ذکر کے لیے مختص کیا گیا ہے ۔ نظم و ضبط اور صفائی ستھرائی کا نظام بہترین ہے ۔دیگر مدارس کی نسبت یہاں کے طلباء میں خود اعتمادی اور داعیانہ اسلوب دیکھنے کو ملا ۔ بات کی بآسانی تفہیم کے لیے کہہ سکتا ہوں کہ یہ پنجاب کا جامعۃ الرشید ہے۔ چار پانچ سال قبل میں علماء کی ایک مجلس میں بیٹھا تھا ،ایک مہتمم صاحب اپنے بچے کے بارے میں فکر مند تھے کہ اسے کہاں داخل کروایا جائے ، انہوں نے سب حاضرین سے سوال کیا کہ اگر ان کا اپنا بیٹا ہو تا تو وہ اسے پنجاب کے کس مدرسے میں داخل کرواتے؟سب نے جواب دید یا ، میری باری آئی تو بدقسمتی سے میرا جواب نہیں میں تھا لیکن اب اگر کوئی مجھ سے یہ سوال کرے تو میں اسے آس اکیڈمی کا راستہ دکھاؤں گا۔ مفتی ابولبابہ صاحب ان کی سرپرستی کر رہے ہیں ،مفتی صاحب بھی کمال شخصیت ہیں ، ان کی شخصیت امت کے درد اورتڑپ سے گندھی ہوئی ہے ۔ اس کے ساتھ اللہ نے انہیں مختلف علوم وفنون میں بھی کمال عطا کیا ہے، میرا وجدان کہتا ہے کہ زمانہ ابھی تک ان کے وجود اور ان کی قدر سے ٹھیک سے آشنا نہیں ہو پایا ۔میں ایک گنہگار انسان ہوں، میں گناہوں میں لتھڑا ہواہوں لیکن میں یہ سوچ کر مطمئن ہو جاتا ہوں کہ ان علماء کی محبت میرا سب سے بڑا سرمایہ ہے ۔ میری زندگی کی سب سے بڑی خواہش یہ ہے کہ میں ان علماء کے قدموں میں زندگی گزار دوں لیکن مجھ ایسے بدبخت کی قسمت میں اتنے اچھے نصیب کہاں ۔


ای پیپر