سیاسی کشیدگی:جمہوریت حادثے سے دوچار ہو سکتی ہے
01 اپریل 2018 2018-04-01

موجود ہ حساس صورت حال میں جمہوری سیاسی قوتوں کے مابین مفاہمت کا پیدا ہونا انتہائی ضروری ہے ۔ یہاں یہ یاد رہے کہ اگر مختلف امور و معاملات پر مفاہمت پیدا نہ ہوئی توجمہوریت کسی حادثے سے بھی دوچار ہو سکتی ہے ۔ حالات کو ڈی ٹریک ہونے سے بچانے کیلئے جمہوری اور سیاسی قوتیں ہمیشہ لچک کا مظاہرہ کرتی ہیں۔ مختلف امور و معاملات میں مختلف نظریات رکھنے والی سیاسی جماعتیں اور سیاستدان ماضی میں بھی اس قسم کے مکالمے کرتے رہے ہیں جس کا افتتاح اور آغاز کل زرداری ہاؤس میں میاں محمد نواز شریف اور آصف علی زرداری کے مابین مذاکرات سے ہوا۔ عوام اس امر کی توقع رکھتے ہیں کہ آنیوالے دنوں میں پاکستان میں اقتدار کی پر امن منتقلی شفاف انداز میں ہوگی اور جو سیاسی جماعت اپنی اکثریت ثابت کر دے گی صدر مملکت بلا تعصب حسب وعدہ بخوشی اُ سے حکومت بنانے کی دعوت دینگے۔ یہی وہ واحد اقدام ہے جس کے ذریعے وطن عزیز میں سیاسی استحکام آئے گا اور جمہوریت کو فروغ ملے گا۔ سیاستی جماعتوں کا بھی فرض ہے کہ وہ سیاسی استحکام اور جمہوریت کے فروغ کیلئے مل کر کام کریں اور حکومت سازی سے قبل آپس میں مذاکرات اور ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رکھیں اور مختلف معاملات و مسائل کے حل کیلئے قابلِ عمل تجاویز کا باہمی تبادلہ کریں تاکہ سیاستدانوں بارے بعض حلقوں میں جو تحفظات پائے جاتے ہیں اُن کا ازالہ ہو سکے۔ سیاسی قیادتوں اور جماعتوں کا فرض منصبی ہمیشہ پارلیمنٹ آئین اور تمام اداروں کو مضبوط بنانا ہوتا ہے ۔یہ تو ہر کسی کے علم میں ہے کہ متنازع ترین امور بھی بات چیت ہی کے ذریعے طے کئے جا سکتے ہیں ۔ اگر سیاستدان بات چیت کے ذریعے متنازعہ امور طے کر لیں تو پارلیمنٹ اور جمہوریت کی بالا دستی کے راستے میں کسی بھی دیدہ و نا دیدہ قوت کو رکاوٹیں کھڑی کرنے کی جرأت نہ ہو گی ۔ اس کیلئے بنیادی اصولوں پر اتفاق رائے ہونا ناگزیر ہے ۔
یہ ایک زمینی حقیقت ہے کہ اس وقت وطن عزیز کو امن ، رواداری، اتحاد اور مفاہمت کی فضا کی اشد ضرورت ہے ۔ ایسے میں تلخی ، تناؤ ، کشیدگی اور جارحانہ بیانات صورتحال کو مزید گڑ بڑا سکتے ہیں۔ اندریں حالات تمام سیاسی جماعتوں کے اکابرین کو جذباتیت کی بجائے عقلیت سے کام لیتے ہوئے صورتحال کے سدھار کیلئے متفقہ اور مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرنا چاہیے۔ سیاسی قوتیں اگرباہم مخاصمت اور ٹکراؤکی پالیسی پر عمل پیرا رہیں تو اس خدشے سے صرفِ نظر نہیں کیا جا سکتا کہ منطقی طور پر اس کا تمام تر فائدہ غیر سیاسی طالع آزما اور مہم جو قوتوں کو ہو گا۔ اس صورتحال سے ان قوتوں کو کسی بھی طور فائدہ اُٹھانے سے روکنے کیلئے سیاست دانوں کو سنجیدگئ فکر سے کام لینا ہو گا اور خطرات و خدشات کا ادراک کرتے ہوئے انتخابات کیلئے پر امن فضا کی تشکیل میں معاون اقدامات کرنا ہوں گے۔
تمام محب وطن سیاسی قوتیں سر جوڑ کر مکالمے اور مشاورت کی میز پر بیٹھیں اور محاذ آرائی کی سیاست سے مکمل اجتناب کو اپنا شعار بنانے کا عزم لے کر اُٹھیں۔ جمہوریت کا قافلہ اسی محفوظ راستہ پر چل کر مضبوط اور توانا تر پاکستان کی منزل مقصود تک رسائی حاصل کر سکتا ہے ۔ سیاسی جماعتوں کو اپنے پیش پا افتادہ مفادات کو بالائے طاق رکھنا ہو گا اور دانشمندی سے کام لیتے ہوئے مفاہمت کی فضا اور ماحول کو مزید خوشگوار اور ساز گار بنانا ہو گا۔ ذاتیات اور مفادات کے خول کی قید سے رہائی پانے کے بعد ہی محب وطن سیاسی قوتیں جمہوری سفر کو بلا روک ٹوک جاری رکھنے کی راہیں کشادہ کر سکتی ہیں۔ جمہوریت کی مکمل بحالی کی جانب پیشرفت کا خواب اسی صورت پورا ہو سکتا ہے کہ سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کی اہمیت اور افادیت کو انتخابی نتائج کے تناظر میں کشادہ دلی کے ساتھ تسلیم کریں۔ رواداری کی روایت ہی جمہوریت کی خوبصورتی ہے اور جن ترقی یافتہ جمہوری ممالک میں حزب اختلاف اور حزب اقتداراس روایت کو بر قرار رکھتی ہیں وہاں جمہوری اقدار و روایات کی نشو و نما کا عمل فطری انداز میں آگے بڑھتا ہے ۔
اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ جب تک پاکستان میں داخلی استحکام کے قوی اور توانا آثار پیدا نہیں ہوتے اور حکومت پاکستان داخلی سطح پر موجود بد امنی اور انتشار کے خاتمہ کیلئے حزب اخلاف سے سخت زبان میں بات کرنے کی بجائے اُن کی طرف دستِ مفاہمت بڑھا کر اُنہیں مذاکرات کی میز پر نہیں لاتی، پاکستان میں معاشی و سیاسی استحکام کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ دنیا بھر میں جہاں بھی کسی ملک میں انارکی کی صورتِ حالات پیدا ہوتی ہے تو دانش و بینش سے کام لینے والے ارباب حکومت ناراض اور بر افروختہ گروہوں پر ریاستی تشدد روا رکھنے کی بجائے اولین مرحلہ پر اُن سے مذکرات کرتے ہیں۔ بہترین حکمت عملی یہی ہے کہ حزب اختلاف کے ناراض اور جارح ترین تنقید کرنے والے قائدین کو سیاسی حکمت عملی اور مکالمے کے ذریعے مفاہمت کی شاہراہ کا مسافر بنایا جائے۔ ارباب حکومت مفاہمت کے عمل کو ملک کے وسیع تر مفاد میں مزید آگے بڑھا نے کے لیے شبانہ روز کوششیں جاری رکھیں۔سابق عدالتی نااہل وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے اگست2017ء سے عدالت عظمیٰ، ان کے فاضل جج صاحبان اور افواج پاکستان کی توہین ہ تحقیر کا جو اعلانیہ اور ڈھکے چھپے الفاظ میں بلا ناغہ غیر دانشمندانہ بیان بازی کا جو سلسلہ شروع کر رکھا ہے ، عوام کی خاموش اکثریت اسے پسند نہیں کرتی۔ ان کے اس عمل سے سوائے بھارت کے کوئی خوش نہیں۔ بہتر ہے کہ وہ صدمے اور جذباتیت کی کیفیت سے باہر نکلیں اور تحمل ، برداشت اور صبر سے کام لیں۔ اپنے ساتھیوں کو بھی سمجھائیں کہ وہ بھی عدالت عظمیٰ ، چیف جسٹس اور ان کے برادر جج صاحبان کے حوالے سے غیر معیاری زبان استعمال کرکے ان کے لیے مزید مشکلات پیدا نہ کریں۔


ای پیپر