چیئرمین سینیٹ کی کامیابی میں عمران خان کا کردار
01 اپریل 2018 2018-04-01

سینیٹ کے الیکشن ہو گئے۔(یوں تو ملک میں سارا سال الیکشن ہی ہوتے رہتے ہیں) اور میر صادق سنجرانی آزاد امیدوار کے طور پر سامنے آئے۔ الیکن جیتا، چیئرمین منتخب ہو گئے اور صدر پاکستان جناب ممنون حسین جیسا ’’شریفانہ اور بیبا رویہ اختیار کر لیا‘‘۔ ’’نہ رہے بانس اور نہ بجے بانسری‘‘ اس کان سے سنی اور اس کان سے نکال دی۔ یوں تو ملک عزیز کے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی صاحب بھی سیدھے سادھے سبھاؤ کے مالک ہیں۔ عباسی صاحب کو تو 23 مارچ کی تقریب میں جناب چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے پیچھے سے انگلی مار کر اٹھ کھڑے ہونے کو کہا کہ جناب یہاں آپ کا اٹھنا بنتا ہے۔ ہمارے ریاضی کے استاد جناب چودھری فضل حسین جن کو ہم ماہر ریاضی دان کے ساتھ ساتھ ’’صفت لطیفہ سازی‘‘ کے بھی بانی کہتے ہیں۔ ایک دن ایک لطیفہ یوں سنانے لگے کہ ایک دفعہ نو اندھوں نے آپس میں اتحاد کر لیا کہ یہ شہر چھوڑ کر کسی اور شہر کی طرف رخ کرتے ہیں اور روزی روٹی کا دھندا چلاتے ہیں (مجھے نو کے ہندسے سے یاد آیا کہ کسی دور میں اسلامی جمہوری اتحاد نامی سیاسی جماعت بھی وجود میں آئی تھی اور اس کے جھنڈے میں نو ستارے تھے۔ وہ ستارے تو جھنڈے سے غائب ہو گئے۔ مگر پارٹیاں کسی نہ کسی شکل میں موجود ہیں) ان اندھوں نے ایک باغ
میں ڈیرہ جما لیا۔ سارا دن بھیک مانگتے اور شام کو کھانا مل کر کھاتے اور باقی سازو سامان بڑی ایمانداری سے اپنی اپنی گتھلیوں میں ڈال لیتے۔ ایک دن باغ کے مالک کو تدبیر سوجھی کہ یہ اندھے ہیں۔ ان کو کونسا نظر آتا ہے۔ کیوں ناں شام کا کھانا چپکے سے ان کے ساتھ بیٹھ کر کھا لیا جائے۔ میری اس حرکت کا کونسا ان کو علم ہونا ہے؟ دو دن ہی گزرے تھے کہ ایک اندھا بہت سیانا تھا۔ اس نے باقی ساتھیوں سے بات کی کہ کوئی ایک آدمی ہمارے ساتھ کھانا کھاتا ہے جو ہماری ’’ہمارے گینگ ‘‘ کا نہیں ہے۔ طے ہوا کہ آج شام کے کھانے کے بعد فوراً ہر ساتھی نے اپنے ساتھ والے ساتھی کا ہاتھ پکڑ لینا ہے اور اس سے اس کا نام دریافت کرنا ہے۔ طے شدہ منصوبے کے تحت ایسا ہی ہوا۔ بندہ پکڑا گیا۔ باغ کے مالک کو پکڑے جانے پر کوئی افسوس نہ ہوا مگر اسے حیرانی اس بات پر تھی کہ مخبری کیسے ہوئی۔ بقول شاعر
ہمیں خبر ہے لٹیروں کے سب ٹھکانوں کی
شریک جرم نہ ہوتے تو مخبری کرتے
باغ کے مالک نے اس شاطر اور تیز طرار اندھے سے پوچھا کہ آپ کو کیسے علم ہوا کہ دس آدمی کھانا کھاتے ہیں؟ اندھا! بولا یہ میرے لیے کوئی معاملہ نہ تھا۔ پہلے میرے کانوں میں نو لوگوں کے منہ سے نکلنے والی آواز پڑتی تھی۔ پچھلے دو دنوں سے دس لوگوں کے منہ سے نکلنے والی ’’پچک پچک‘‘ کی آواز آ رہی تھی۔ میں نے سوچا کہ کوئی ہمارے حق پر ڈاکہ ڈال رہا ہے۔ لہٰذا ہم نے وقت ضائع کیے بغیر آپ کو دھر لیا۔ گو اس لطیفے کا مقصد کسی کی دل آزاری نہ ہے مگر حالات سے کچھ مطابقت ضرور رکھتا ہے۔ 12 مارچ 2009ء کو آصف علی زرداری اور نواز شریف نے مل کر فاروق نائیک کو سینیٹ کا بلا مقابلہ چیئرمین منتخب کیا۔ چاروں طرف خامشی رہی۔ 12 مارچ 2012 ء کو نواز شریف اور آصف علی زرداری نے نیر بخاری کو بلا مقابلہ سینیٹ کا چیئرمین نامزد کیا۔ کوئی شور و غوغا نہ ہوا۔ 11 مارچ 2015ء کو پھر اسی واردات کے تحت رضا ربانی کو چیئرمین سینیٹ کی مسند پر بٹھا دیا اور کوئی لے دے نہ ہوئی مگر 12 مارچ 2018ء کو عمران خان نے صرف 13 سیٹوں کے عوض نواز شریف اور زرداری کی 10 سال کی پارٹنر شپ کو توڑ کر کمال چال چلتے ہوئے آزاد امیدوار کو جتوا دیا تو تمام پارٹیز ان کے خلاف بلند بانگ الزامات دینے پر اتر آئیں۔ اگر آج عمران خان کسی بھی حالت میں موجود ہے تو اس میں ملک کی بہتری ہے۔ گو کہ نواز شریف اور شہباز نے ملک میں بہت سے میگا پراجیکٹ شروع کیے اور ان کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے میں کوشاں ہیں مگر عوام کی ذہنی پستی اور معاشی حالت میں کوئی بہتری نہیں آئی ۔ آپ ذرا دیکھیے طیب اردوان نے جب 2004ء میں ترکی کی حکومت سنبھالی تو ترکی 23.5 ملین ڈالر کا مقروض تھا لیکن طیب اردوان نے 2012ء میں سارا قرضہ واپس کر دیا اور ساتھ اعلان کیا کہ اگر آئی ایم ایف کو قرضہ چاہیے تو وہ ہم سے قرضہ لے سکتا ہے۔ جناب آصف علی زرداری نے آئی ایم ایف سے 22ارب ڈالر قرض لیا اور ایک مخبر کی خبر کے مطابق جناب نواز شریف نے آئی ایم ایف سے 80 ارب ڈالر قرض لیا۔ یاد رہے کہ یہ وہی نواز شریف ہیں جنہوں نے اپنے دوسرے دور حکومت میں قرض اتارو ملک سنواروں کی مہم بھی چلائی تھی اور اس مد میں اربوں روپے اکٹھے ہوئے تھے۔ ایسے حالات میں عمران کا یہ فیصلہ کسی دور اندیشی سے کم نہیں ہے۔ عمران خان ایک بہت بڑا وژن رکھنے والا لیڈر ہے۔ اس کے دل میں ملک اور قوم کا درد موجود ہے ۔ اگر عمران کے دل میں ملک اور قوم کا درد موجود نہ ہوتا تو وہ کینسر ہسپتال جیسے میگا پراجیکٹ پر کام نہ کرتا۔ اگر وہ تعلیم یافتہ نہ ہوتا تو وہ نمل یونیورسٹیز جیسی درسگاہیں عمل میں نہ لاتا۔ عمران آج بھی کرپشن کی بات کرتا ہے۔ عمران آج بھی کرپشن کی بات کرتا ہے۔۔۔ عمران آج بھی ٹیکس نادہندگان کی بات کرتا ہے۔۔۔ عمران آج بھی قومی خزانے کے بے جا ضیاع کی بات کرتا ہے۔۔۔ عمران آج بھی قانون، انصاف، نظم و ضبط کی بات کرتا ہے۔۔۔ عمران آج بھی غریب عوام اور اس کی بیماریوں کی بات کرتا ہے۔۔۔ عمران آج بھی کہتا ہے کہ حکمرانوں کا علاج بھی اسی ملک میں ہونا چاہیے۔۔۔ میر صادق سنجرانی کی حمایت عمران خان کا دانشمندانہ فیصلہ ہے۔ تا کہ سینیٹ کا ادارہ تو کم از کم کرپٹ لوگوں سے پاک رہے ۔ اور جتنی ساز باز پچھلے دس سالوں میں سینیٹ کے ادارہ میں ہوتی رہی ہے اس کو قابو میں رکھا جا سکے۔ ویسے بھی میر صادق سنجرانی ایک نوجوان قیادت ہے اور نوجوانوں سے ہمیشہ اچھے کی امید ہی رکھی جاتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ بانئ پاکستان کو ہمیشہ نوجوان پسند تھے اور نوجوانوں سے توقعات وابستہ رکھتے تھے۔ دیکھیے! سوچیے! ملک کو صرف وہی لیڈر بہترین ڈگر پر چلا سکتا ہے جو ایماندار ہے۔ کرپشن اور اقربا پروری کو ناپسند کرتا ہے۔ باقی آپ سیانے ہیں۔ جیسے آپ کی مرضی! اللہ اللہ خیر سلا۔


ای پیپر