جناب چیف جسٹس کشتیاں جلادیں۔۔۔
01 اپریل 2018

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ جو بھی حکومت آئے آئین کے تحت کام کرے، دعا کریں کہ اللہ ہمیں عمر خطاب ثانی سے نوازے، ہمیں ایسی قیادت میسر آئے جو اچھی ساکھ کی مالک ہو۔ پاکستان کی اقلیتیں عدلیہ کی جان ہیں، اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ عدلیہ کی ذمہ داری ہے۔ اللہ کا شکر ہے کہ آج ہم آزاد ہیں۔ قائد اعظمؒ اور علامہ اقبالؒ جیسی ہستیوں کو سلام پیش کرتے ہیں۔ اگر یہ ہستیاں نہ ہوتیں تو شاید ہم آزادی جیسی نعمت سے محروم رہتے، محکومی اور آزادی سے محرومی بہت بڑی ذلت ہے، ہمیں مل کر ملکی آزادی کا تحفظ کرنا ہو گا، اچھے حکمران آنے سے ملک کی تقدیر بدلتی ہے، آج کے دن ہمیں اپنے اسلاف کی قربانیوں کو یاد کرنا چاہئے اور اپنی ماں سے بڑھ کر اس ملک کی عزت کرنی چاہئے۔ جو قومیں تعلیم حاصل نہیں کرتیں وہ پیچھے رہ جاتی ہیں۔
12اکتوبر1999ء کو نواز شریف کی حکومت ختم کرکے پرویز مشرف نے اقتدار سنبھالا تو کئی الزام عائد کئے گئے، ساتھ دعوے بھی کئے گئے کہ ملک سے کرپشن ختم کریں گے، لوٹی دولت واپس لائیں گے وغیرہ وغیرہ، نواز شریف خاندان جلاوطن ہوا اور مشرف سیاہ و سفید کے مالک بن گئے، مالشیوں کی صورت میں چوہدری برادران اور این جی اوز کے مامے، مامیاں مل گئے، مشرف نو سال تک اقتدار میں رہے ایجوکیٹر اسمبلی بھی وجود میں لائی گئی۔ تبدیلی کیلئے، تبدیلی تو نہ آئی البتہ کئیوں کے وارے نیارے ہوگئے، پھر اقتدار ہاتھ سے نکلا تو گلے پھاڑ پھاڑ کر مشرف کو دس بار بھی صدر منتخب کروانا پڑا کے دعوے کرنے والوں نے کبوتر کی طرح آنکھیں پھیر لیں۔
خس کم جہاں پاک کے مصداق پرویز مشرف نے دکھی دل کے ساتھ اقتدار چھوڑ دیا؟ تمہید باندھنے کا مقصد یہ بتانا تھا کہ بڑھکیں مارنے والے بہت آئے عمل کرنے والے کم، عوام کی حالت بدلی نہ انصاف کا بول بالا ہوا۔ کرپشن نے اتنی مضبوطی سے پنجے گاڑ رکھے ہیں کہ بڑے بڑے بھی پناہ مانگتے ہیں، اب کی بار ہر طرف سے ٹھکرائے ہوئے عوام نے تمام تر امیدیں کسی سیاستدان سے نہیں ایک منصف سے باندھ لی ہیں، چیف جسٹس میاں ثاقب نثار اپنے فیصلوں سے عوام کے دلوں میں گھر کرتے جا رہے ہیں، ایک محب وطن اور درد دل رکھنے والے انسان کی طرح عوام کے دکھوں کا مداوا کرنا چاہتے ہیں۔ وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ جناب حضرت عمر فاروق ثانی آئے تاکہ ملک میں صحیح معنوں میں اسلام کا نفاذ ہوسکے لیکن سوچنے والی بات یہ ہے کہ اگر فوج اور عدلیہ نے ہی سب کام کرنے ہیں تو پھر یہ نام نہاد عوامی نمائندے کس کام کے لئے ہیں؟
ادارے مضبوط ہوں تو راستے خود بخود بنتے جاتے ہیں چند مفاد پرست جنہوں نے اس ملک کو ہمیشہ سے چاٹا ہے چیف جسٹس پر تنقید کر رہے ہیں کہ وہ اپنے کام سے کام رکھیں، یہ بات ٹھیک ہے مگر سیاستدان حدود سے تجاوز کریں ملکی مفاد کے خلاف کام کریں تو کیا عدلیہ کو آنکھیں بند کر لینی چاہیے، ہر گز نہیں ایسے کرنے سے عدلیہ اور فوج بھی ان کے جرم میں برابر کی شریک سمجھی جائے گی۔ اگر یہ دونوں ادارے بھی خاموش ہو جائیں تو پھر تباہی سے ہمیں کوئی نہیں روک سکتا، ویسے بھی اس ملک کی تباہی میں ہم سب حصہ دار ہیں۔ ہم نے ہمیشہ اپنا مفاد عزیز رکھا، ملک کیلئے کبھی نہیں سوچا، ہم اکثر کہتے ہیں کہ اس ملک نے ہمیں کیا دیا۔ اگر ملک ہمیں پوچھ لے کہ ہم نے اسے کیا دیا تو ہمارے پاس اس کا جواب کیا ہوگا؟
کیا یہ سچ نہیں ملک پولیس سٹیٹ بن چکا ہے، عزتوں کے رکھوالے ہی عزتوں سے کھیلتے ہیں، کیا یہ سچ نہیں تمام سرکاری ادارے کرپشن کے ’’بھڑولوں‘‘ سے بھرے پڑے ہیں، پی آئی اے، پاکستان سٹیل، ریلوے، پی ٹی سی ایل، ہیلتھ، ایجوکیشن سمیت دیگر اداروں کا ایسا آپریشن کیا ہے کہ ہر ادارہ اربوں کا مقروض ہے، کیا یہ سچ نہیں کہ حکمرانوں نے اربوں کھربوں کے قرضے لئے ملک اور قوم کے نام پر مگر کیا اپنے بینک بیلنس میں اضافہ، کیا یہ سچ نہیں کہ دین کے نام پر سیاست کی گئی، کی جا رہی ہے، کیا یہ سچ نہیں کہ صحافت کے لبادے میں اخباری مالکان اور اینکروں نے اپنے مفادات کیلئے ہر حکومت کو بلیک میل کیا، کیا یہ سچ نہیں کہ ملک کو آج اس حالت تک پہنچانے میں سیاستدانوں کا رول ہے جنہوں نے ملک کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا، کیا یہ سچ نہیں کہ وکالت جیسے مقدس پیشے کو بدنام کیا گیا، ججوں پر جوتے برسائے گئے، عدالتوں کو تالے لگائے گئے، کیا یہ سچ نہیں کہ چند ججز نے بھی ضمیر کے سودے کئے۔
اب اگر چیف جسٹس ثاقب نثار نے ملک سے کرپشن کے خاتمے کی ٹھان لی ہے تو ہمیں ان کا ساتھ دینا چاہئے، انہوں نے اداروں کا قبلہ درست کرنے کا مصمم ارادہ کرلیا ہے تو ہمیں ان کا دست وبازو بننا چاہئے، اگر انہوں نے حالات کے مارے عوام کو انصاف فراہم کرنے کی ٹھان لی ہے تو ہمیں ان کے راستے میں کانٹے نہیں بچھانے چاہئیں۔ لیکن اگر چیف جسٹس نے بھی آمر مشرف کی طرح بڑھکیں ماریں اور پھر عوام کو بیچ چوراہے چھوڑ دیا تو آنے والا کل بھیانک بھی ہوگا اور تاریخ انہیں کبھی معاف نہیں کرے گی اس لئے چیف جسٹس ثاقب نثار کو چاہئے کہ کشتیاں جلا کر کرپشن، ناانصافیوں کے خلاف جہاد کریں۔ اگر آپ ایسا کر گزرتے ہیں تو پھر دیکھیں عوام آپ کی راہوں میں کیسے پھول نچھاور کرتے ہیں کیونکہ عوام کی تمام تر امیدوں کا محور چیف جسٹس ثاقب نثار ہی ہیں، ویسے بھی اگر تمام کام فوج اور عدلیہ نے ہی کرنے ہیں تو پھر زرداری، مداری، چوہدری اور شریف زادے کس کام کے؟؟؟


ای پیپر