نقش فریادی ہے....
01 اپریل 2018 2018-04-01

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار واحد چیف جسٹس ہیں جن کی باتیں میڈیا کا ” مرغوب “موضوع بن جاتی ہیں۔یوں تو جسٹس(ر) افتخار چودھری نے بھی میڈیا کو اپنے پیچھے لگائے رکھا اوراُن کے سو موٹو نوٹس بھی مقبول ہوئے لیکن موجودہ چیف جسٹس ان سے بازی لے گئے ہیں۔جن کی گفتگو کے ہر لفظ کے الگ معنی اور مفہوم نکالے جاتے ہیں۔اکثر ان کے جملے اخبارات کی لیڈ بن جاتے ہیں۔جن پر میاں نواز شریف اور ان کے ساتھی بھی چیف جسٹس کی ” قصیدہ خوانی “ پر مجبور ہوجاتے ہیں۔اگلے روز وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی فرمائش پر چیف جسٹس نے انہیں اپنے دیدار سے فیض یاب کیا ۔تقریبا دو گھنٹے کی اِس ” دید وا دید “ کو میڈیا بلکہ سوشل میڈیا نے آسمان پر ٹانگ دیا۔ اب تک اس پر بھانت بھانت کی آراءسامنے آچکی ہیں، بیشتر اخبارات میں چیف جسٹس کے حوالے سے وزیر اعظم کے بارے میں فریادی فریادی کی گونج بھی سنائی دیتی ہے۔اگرچہ سپریم کورٹ کے ترجمان نے وضاحت کر دی ہے کہ چیف جسٹس نے فریادی کا لفظ استعمال نہیں کیا مگر کیا کیجیے، اب تو وزیر اعظم نے بھی اعتراف کر لیا ہے کہ ہاں میں فریادی ہوں اور اپنے ملک کی فریادلے کر گیا تھا۔کرلو جو کرنا ہے ۔اس موقع پراستاد شاعر بیدل حیدری کا شعر یاد آیا :
فریاد سے مراد بغاوت نہ لےجےے
اتنا نہ طول دےجےے چھوٹی سی بات کو
اپوزیشن لیڈرخورشید شاہ نے بھی یہ سرِ عام ملاقات پسند نہیں کی اور کہا کہ وزیر اعظم کو خفیہ ملاقات کر نی چاہیے تھی۔لیکن اب تو تیر کمان سے نکل چکا ،تبھی تو نون لیگ کی طرف سے یہ کہا جارہا ہے کہ فریادی کہا ہے تو اس پر قائم بھی رہتے۔مسلم لیگ کو عوامی مسائل پر چیف جسٹس کے سو موٹو نوٹس بھی پسند نہیں ،لیکن عوام کی زندگیاں اجیرن ہوتے دیکھ کر عدلیہ چُپ رہنے سے قاصر ہے، اصل میں چیف جسٹس ثاقب نثار بہت درد مند انسان ہیں وہ عوام الناس کی فلاح اور بہتری چاہتے ہیں۔اسی لےے بعض اوقات عوامی مسائل کا نوٹس بھی لیتے ہیں۔جو میاں نواز شریف کو ایک آنکھ نہیں بھاتے۔ بعض حلقے اس ملاقات میں ” ڈیل “بھی سونگھ رہے ہیںپی ٹی آئی نے تو کہہ دیا ہے کہ اگر ڈیل ہوئی یا ڈھیل دی گئی تو وہ عوام کے ساتھ سڑکوں پر ہوںگے مگرچیف جسٹس نے اس ملاقات کے بارے میں سینئر وکلا ءسے کہا ہے کہ : ” ہم نے اس ملاقات میں کچھ کھویا نہیں بلکہ پایا ہی ہے اور یہ کہ وہ اپنے ادارے اور وکلاءکو مایوس نہیں کریں گے“۔
بعض افراد کو چیف جسٹس کی ایسی وضاحتیں بھی اچھی نہیں لگتیں۔ان کا خیال ہے کہ ججز کے صرف فیصلے بولتے ہیں۔اس ساری ملاقات میں لفظ فریادی پر اب تک تنقید ہورہی ہے۔جس سے ہمیں غالب یاد آئے ہیں جن کے دیوان کے پہلے شعرہی میں فریادی فریاد کناں ہے:
نقش فریادی ہے کس کی شوخی ءتحریر کا
کاغذی ہے پیرہن ہر پیکرِ تصویر کا
یعنی کس کی شوخیءتحریر کا نقش فریاد کنا ں ہے۔کہتے ہیں کسی زمانے میں ایران میں جب کوئی فریادی فریاد کے لےے بادشاہ کے حضور پیش ہوتا تو وہ کاغذ کا لباس پہن کر جاتا،جو اس بات کی دلیل ہوتا کہ وہ شخص انصاف کا طالب ہے۔ہمارے وزیر اعظم نے کاغذی لباس نہیں پہنا کہ وہ تو خود سربراہ مملکت ہیں فریادی ہر گز نہیں ۔ وہ تو نظام کو رواں رکھنے کے لئے خود چل کر چیف جسٹس کے پاس گئے تھے۔کیا ہی اچھا ہوتا کہ اس ملاقات کا کوئی گواہ بھی ہوتا تو کسی قسم کے شکوک و شبہات جنم نہ لیتے۔بہر حال ملاقات ہوئی ہے تو اس پر بحث کا اختتام ہونا چاہئے ۔ویسے بھی اس حکومت کے چند روز ہی باقی ہیں ۔ حکومتیں بھی فانی ہوا کرتی ہیں انسان کی طرح ۔غالب کے شعر میں کاغذی لباس فنا کی علامت ہے۔غالب نے تو حمد کے پردے میں رب ِکائنات سے گلہ کیا ہے کہ انسانی وجود فنا پذیر ہے تو اسے کیوں اس قدر حسین بنایا گیا۔غور کیا جائے توفانی انسان دنیا میں فریادی ہی تو ہے۔دنیا کو دکھوں کا گھر قرار دیا جاتا ہے۔ کون خوش رہ سکتا اس دنیا ئے فانی میں۔۔ذرا سوچیں کتنے لوگ یہاں اپنے حال پر راضی ہےں؟ہم سب کسی نہ کسی سے نا خوش ہیں۔جب ہم سب کو یہ علم ہے کہ دنیا سے واپس بھی جانا ہے تو پھر دنیا سے ایسی رغبت کیوں؟ لیکن ارد گرد نگاہ ڈالیں تو ہر کوئی دنیا کی حرص و ہوس میں گردن تک دھنسا ہوا ہے۔ بعض لوگوں کے پاس پیسے کی کوئی کمی نہیں،متمول افراد کو دنیا کی ہر نعمت میسر ہے مگر وہ بھی اقتدار کی طاقت کے آرزو مند ہیں۔کیا کوئی خدمت کے جذبے کے تحت اقتدار میں آتا ہے؟سینٹ اور اسمبلیوں کے ممبران کو اپنے بچوں کی قسم دے کر پوچھ لیں کہ کیا وہ عوام کی فلاح کا جذبہ لے کر الیکشن میں حصہ لیتے ہیں؟ ہر گز نہیں.... وہ کروڑوں روپے خرچ کر کے اسمبلی یا سینٹ کی سیٹ اس لےے حاصل کر تے ہیں کہ خرچ کیا ہوا پیسہ دگنا وصول کرنے کے علاوہ اپنے اور اپنے عزیزو اقارب کے لئے زیادہ سے زیادہ مال بنا سکیں۔
چیف جسٹس سیاست دانوں ،بیوروکریٹس،سابق حکمرانوں یا صاحب اختیار افراد سے یہی تو پوچھ رہے ہیں کہ عام آدمی مسائل کا شکار کیوں ہے؟ اربوں قرض کی رقوم اگر عوام پر خرچ نہیں ہوئیں تو آخر وہ پیسہ کہاں گیا ؟جس پر عدلیہ کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ سابق حکمران تو باقاعدہ اِس پوچھ گچھ سے نالاں ہیں یہی نہیں وہ تو خودکو احتساب سے بالا سمجھتے ہیں حالانکہ بے گنا ہ کو احتساب کا ڈر ہوتا ہے اور نہ ہی وہ این آر او قسم کی ڈیل پسند کر تا ہے، اسے توکسی سے فریاد کی ضرورت بھی نہیں پڑتی ۔انسانی زندگی کاغذی پیرہن ہی تو ہے ہمیںاپنے اگلے سانس کا بھی اعتبارنہیں :
کی دم دا بھروسہ یار
دم آوے نہ آوے
ایسے میں کس بِرتے پر اتنا غرور ،تکبر کیا جائے۔انسان تو وہ ہے جو ہر شب، اپنا احتساب کر کے سوئے۔چہ جائے کہ کوئی نیب ہمارا احتساب کرتا پھرے۔کیا خیال ہے آپ کا؟


ای پیپر