-اسلام آباد :نوازشریف نے 10 افسروں کو گریڈ 21 میں ترقی دے دی -مرغزارروڈپر مسافر بس کھائی گر گئی ،19 افرادزخمی-کراچی: وکلا کا پولیس پر تشدد،ایک پولیس اہلکا رزخمی-اسلام آباد :تھری جی اور فورجی لائسنس کی نیلامی کا عمل شروع -اسلام آباد :پی آئی اے کے پائلٹ نے سپر وائزکو تھپڑ مار دیا-کراچی: مارننگ گلوری کے چیف آفیسرغفران مرغوب کراچی پہنچ گئے- بھریا ر:یلوے اسٹیشن کے قریب زکریا ایکسپریس کا انجن فیل -کراچی: لانڈھی نمبر 6 میں کارروائی ،بینک ڈکیتی میں ملوث 4 ملزمان گرفتار-اسلام آباد :نوازشریف سے چوہدری نثار کی ملاقات ،ملکی صورت حال پر تبادلہ خیال -اسلام آباد : الیکشن کمیشن نے پی کے حلقے 90 سے سردارحسین کو کامیاب قراردے دیا-اسلام آباد : اسلامی ممالک سے امداد وصول کرنے والے 15 مدارس کی تفصیلات سینیٹ اجلاس میں پیش-پاکستان اور بنگلا دیش کے درمیان سیریز موخر ہونے کا امکان-سندھ اور پنجاب میں گرمی کی شدت میں اضافہ-گندم سبسڈی کا خاتمہ، گلگت بلتستان9 ویں روز بھی دھرنے جاری-کراچی: ایک گھنٹے کے دوران ملنے والی لاشوں کی تعداد 3 ہو گئی -کوئٹہ: فائرنگ کے تبادلے میں ڈاکو ہلاک، لیویز ذرائع-نئی دہلی: جنسی زیادتی کے واقعات سب سے بڑا مسئلہ ہے، بھارتیوں کی رائے-نئی دہلی:بھارتی انتخابات:راہول اور مودی کے ایک دوسرے پر حملے-لاہور :نامعلوم افراد نے ماں بیٹی کو گلہ دبا کر ہلاک کردیا-اسلام آباد:حکومتی اورطالبان کمیٹیوں کامشترکہ اجلاس آج طلب-پشاور:بڈھ بیر میں پولیس اہلکاروں پر دہشتگردوں کے حملے کی ابتدائی رپورٹ تیار-مشرف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست کی سماعت آج ہوگی-حامد میر پر حملہ، جوائنٹ انٹیروگیشن ٹیم آج سے کام شروع کردے گی-اسلام آباد: بارہ کہو میں 2 گروپوں میں فائرنگ، 2 افراد جاں بحق، 6 زخمی-لندن:آصف زرداری کا الطاف حسین کوفون، سندھ حکومت میں شمولیت پر مبارکباد-

ُلٹی گنگا بہانے کی کوشش

میں نے ایک دوست کے حوالے سے لکھا تھا کہ وہ کتوں کی امپورٹ ایکسپورٹ کاکام کرتا ہے۔ ایک روز وہ افسردہ بیٹھا تھا میں نے اس سے اداسی کا سبب پوچھا تو وہ یوں گویا ہوا ”میرے دفتر میں ایک انگریز خاتون آئی اور اس نے ایک بدنسل سا کتا پسند کر لیا۔ پہلے تو میں مذاق سمجھا مگر اسے سنجیدہ جان کر میں نے کتے کی قیمت 500ڈالر بتائی تو اس نے پرس کھولا اور کڑکتے نوٹ میرے ہاتھ میں تھما دئیے اور کتا لے کر چلتی بنی“۔ میں نے کہا پھر تو تمہیں خوش ہونا چاہیے کہ لاٹری نکل آئی۔ اس کے ساتھ ہی اس نے آہ بھری۔ میں نے ٹھنڈی آہ بھرنے کی وجہ پوچھی تو کہنے لگا ”یار! مجھ سے کتا ہی اچھا!“
میں نے اس سے کہا ”نہیں یار! کتے تم سے اچھے نہیں۔ انگریزوں کو ویسے ہی کتے پسند ہیں کہ وہ وفادار ہیں اور حکم عدولی نہیں کرتے۔ امریکیوں کا بھی یہی مزاج ہے۔ وہ بھی کتے پالتے ہیں اور باقاعدہ ان کا پیکیج طے کرتے ہیں۔ بعض دفعہ تو وہ اپنے کتے سے دوسرا کتا مروا دیتے ہیں۔ مجھے مندرجہ بالا تمہید اس لیے باندھنا پڑی کہ آج کل کتے کا قضیہ چل رہا ہے۔ مولانا فضل الرحمن نے اس بات کے جواب میں کہ حکیم اللہ محسود شہید ہیں یا ہلاک‘ کہا کہ امریکہ کسی کتے کو بھی مارے گا تو میں اسے شہید کہوں گا۔ یہ بیان دینا تھاکہ ان پر تنقید اور طنز کے تیر چلنے لگے۔ ایک مو¿قر اخبار کے عالم کالم نگار نے مولانا کی خوب خبر لی اور یوں برافروختہ ہوئے کہ جیسے مولانا نے کتے کو حلال قرار دے دیا ہو۔ مولانا فضل الرحمن کے بیان پر کتے کا موضوع ہر کسی کے لیے مرغوب نظر آتا ہے کہ ہرکالم نگار اس پر مضمون باندھنے کے در پے ہے۔ کتے پر مضمون بانڈھنا کتے کو باندھنے سے زیادہ مشکل ہے۔ یادش بخیر ایک مرتبہ نوائے وقت میں ہم نے بھی اس موضوع پر خامہ فرسائی کی تھی۔
سوچنے او رسمجھنے کی بات یہ ہے کہ ہم ایسے ردعمل کرتے ہیں جیسے بڑی دیر سے اس کے انتظار میں تھے کہ کوئی کچھ کہے اور ہم اس پر چڑھ دوڑیں۔ سیدھی سی بات سمجھنے سے بھی ہم قاصر ہیں کہ مولانا نے نفرت کے اظہار کے لیے کتے کو ایک علامت بنایا۔ ”مولانا امن کی آشا“ نے کہا کہ کتا تو نجس ہے اسے شہید کیسے کہا جا سکتا ہے۔ حضور اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ کتا نجس ہے او رجس گھر میں ہو وہاں نماز نہیں ہوتی مگر کیا آپ اس سے بھی انکار کریں گے کہ کتا وفا کی علامت ہے۔ اسی لیے تو ہمارے عاشقانِ رسول خود کو سگِ مدینہ کہتے ہیں اور اہلِ تشیع کے نام تو کلبِ علیؓ اور کلبِ حسینؓ بھی ہوتے ہیں۔ یہاں کتے کی خوبی ہی مراد لی جاتی ہے جو کہ اس کی وفاداری ہے اور دوسرے نمبر پر وہ کمتر سمجھا جاتا ہے اور تیسرا یہ کہ وہ انحصار کرتا ہے۔
ایک مرتبہ عطاءاللہ شاہ بخاری نے بھی کہاتھا کہ اگر کوئی کتا فرنگی کو کاٹے گا تو میں اس کا بھی منہ چوم لوں گا۔ اصل میں یہ کسی مسلمان کی اسلام دشمن فرنگی سے نفرت کی انتہا ہے۔ اسی طرح مولانا فضل الرحمن نے بھی امریکیوں سے اپنی نفرت کا اظہار کیا ہے۔ ہو سکتا ہے ان کے ذہن میں وہ لوگ ہوں جو امریکیوں کے لیے کام کر رہے ہیں۔ وہی لوگ جن کا میں اوپر ذکر کرچکا ہوں جنہوں نے ڈالر لے کر اس وطن کی بیٹی عافیہ امریکہ کے حوالے کی اور بے شمار لوگ گوانتاناموبے جیل بھیجے۔ حکیم اللہ محسود کے حوالے سے منور حسن شاہ نے بھی کہا کہ وہ انہیں شہید سمجھتے ہیں کہ وہ امریکہ کے خلاف اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے تھے۔ بہرحال حکیم اللہ محسود کی شہادت نے انہیں واقعی ہیرو بنا دیا ہے۔ یہ میں نہیں امریکہ کا میڈیا لکھ رہا ہے۔ وہ لوگ ہم سے زیادہ حالات سے باخبر ہیں۔ وہ ان دوتین امریکی اینکر پرسنز اور دوتین بکے ہوئے کالم نگاروں کی باتوں پر نہیں جاتے۔
منور حسن شاہ نے جو کچھ بھی کہا اس سے سب کا متفق ہونا ہرگز ضروری نہیں مگر حیرت کی بات یہ کہ عزیزی بلاول نے اپنا ردعمل انتہائی افسوس ناک اور مایوس کن دیا۔ اس نے الٹی گنگا بہانے کی کوشش کی۔ وہ شاہ صاحب کے بیان پر اس قدر شدید ردعمل دے گا کسی نے سوچا بھی نہ تھا۔ اس نے جماعت اسلامی کے ساتھ وہی سلوک کرنے کی درخواست کی جو ان کے ساتھ بنگلہ دیش میں ہو رہا ہے۔ ہرکس و ناکس کو علم ہے کہ بنگلہ دیش کی حکومت یعنی حسینہ واجد بھارت کے ایماءپر جماعت اسلامی کے ان لوگوں پر جنگی مقدمے چلا کر سزائے موت اور عمر قید کی سزا سنا رہی ہے جو پاکستان کو ٹوٹنے سے بچانا چاہتے تھے اور وہ مکتی باہنی اور ہندوﺅں کے ساتھ برسرپیکار رہے۔ ہمیں تو ان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرنا چاہیے تھا۔ حکومتی سطح پر احتجاج کرنا چاہیے تھا۔
مگر یہاں تو باوا آدم ہی نرالا ہے۔ لوگ سوال پوچھتے ہیں کہ ”ادھر ہم ادھر تم“ کس نے کہا تھا۔ کس نے دھمکی لگائی تھی کہ جو کوئی مشرقی پاکستان میں قومی اسمبلی کا اجلاس اٹینڈ کرنے جائے گا وہ اس کی ٹانگیں توڑ دی جائیں گی۔ یحییٰ خان کے ساتھ مل کر کس نے سازش کی۔ شملہ معاہدہ کس نے کیا تھا؟ کیا تاریخ کا پہیہ الٹا گھمایا جا سکتا ہے۔ مشیر کاظمی نے کہا تھا:
کچھ تمہاری نزاکت کی مجبوریاں کچھ ہماری شرافت کی مجبوریاں
تم نے روکے محبت کے خود راستے اس طرح ہم میں ہوتی گئی دوریاں
کھول تو دوں میں رازِ محبت مگر تیری رسوائیاں بھی گوارا نہیں
پھول لے کر گیا آیا روتا ہوا بات ایسی ہے کہنے کا یارا نہیں
قبرِ اقبال سے آ رہی تھی صدا یہ چمن ہم کو آدھا گوارا نہیں
بلاول کو تاریخ کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ اگر نہیں کیا ہے تو چھپانا نہیں چاہیے۔ ٹکا خان کہ جس نے ادھر قتل و غارت کروائی‘ کو کس نے گورنر بنا کر سرفراز کیا۔ عزیزی بلاول! آپ سے تو نوجوان نسل نے بڑی امیدیں باندھی تھیں کہ آپ میں بے نظیر کی ذہانت بھی ہے اور زرداری کا صبر بھی مگر آپ ہوا سے لڑتے ہیں۔ اس سے پیشتر بھی آپ عمران کو بزدل کہہ چکے ہیں جبکہ آپ کی پارٹی الیکشن کمپین چلانے کی جرا¿ت نہیں کر سکی اور آپ خود بھی فرار ہوگئے۔ اب آپ نے ایک نیا باب کھول دیا ہے جسے بند کرنا اب آپ کے بس میں نہیں رہے گا۔ لوگ تو یہ بھی پوچھیں گے کہ آپ بھٹو لفظ کو نام کا حصہ کیسے بنا سکتے ہیں۔ کیا یہ کھلا تضاد نہیں

0/0